گورنمنٹ انگریزی اور جہاد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxxiv of 615

گورنمنٹ انگریزی اور جہاد — Page xxxiv

اوریہ بات مَیں نے اپنی طرف سے نہیں کہی بلکہ خدا کا یہی ارادہ ہے۔صحیح بخاری کی اس حدیث کو سوچو جہاں مسیح موعود کی تعریف میں لکھا ہے کہ یضع الحرب یعنی مسیح جب آئے گا تو دینی جنگوں کا خاتمہ کر دے گا-‘‘ (، روحانی خزائن جلد ۱۷، صفحہ ۱۵) ممانعت کا وقتی فتویٰ ہے آپؑ نے اس پیشگوئی کے مطابق جو قرآن اور حدیث میں پائی جاتی تھی ہمیشہ کے لئے تلوار کے ساتھ جہاد منسوخ نہیں کیا بلکہ اپنے زمانہ میں جہاد بالسیف کی شرائط نہ پائے جانے کی وجہ سے اُس زمانہ تک منسوخ یا ملتوی کیا جب تک کہ اس کی شرائط نہ پائی جائیں اور جہاد اکبر اور جہاد کبیر پر عمل کرنے کے لئے بکرّات و مرّات زور دیا۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں: - ’’اس زمانہ میں جہاد روحانی صورت سے رنگ پکڑ گیا ہے اور اس زمانہ میں جہاد یہی ہے کہ اعلائے کلمۂ اسلام میں کوشش کریں۔مخالفوں کے الزامات کا جواب دیں۔دینِ متین اسلام کی خوبیاں دنیا میں پھیلا ویں۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی سچائی دنیا پر ظاہر کریں یہی جہاد ہے جب تک کہ خدا تعالیٰ کوئی دوسری صورت دنیا میں ظاہرنہ کرے-‘‘ (مکتوب حضرت مسیح موعودؑ بنام میر ناصر نواب صاحب مندرجہ رسالہ درود شریف صفحہ ۱۱۳) الفاظ ’’جب تک کہ خدا تعالیٰ کوئی دوسری صورت دنیا میں ظاہر نہ کرے-‘‘اور مصرع ’’عیسیٰ مسیح جنگوں کا کردے گا التوا‘‘ صاف ظاہر کر رہے ہیں کہ آپ کا فتویٰ ممانعت دینی جہاد بالسیف وقتی اور صرف اس وقت تک کے لئے ہے جب تک کہ تلوار سے جہاد کے شروط نہ پائے جائیں۔اِسی طرح آپ پادری عماد الدین کے مسئلہ جہاد پر اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں: - ’’اس نکتہ چین نے جہاد اسلام کا ذکر کیا ہے اور گمان کرتا ہے کہ قرآن بغیر لحاظ کسی شرط کے جہاد پر برانگیختہ کرتا ہے سو اس سے بڑھ کر اور کوئی جھوٹ اور افترا نہیں اگر کوئی سوچنے والا ہو۔سو جاننا چاہئے کہ قرآن شریف یوں ہی لڑائی کے لئے حکم نہیں فرماتا بلکہ صرف ان لوگوں کے ساتھ لڑنے کے لئے حکم فرماتا ہے جو خدا تعالیٰ کے