گورنمنٹ انگریزی اور جہاد — Page xxxiv
اوریہ بات مَیں نے اپنی طرف سے <mark>نہی</mark>ں <mark>کہ</mark>ی بل<mark>کہ</mark> خدا کا یہی ارادہ ہے۔صحیح بخاری کی <mark><mark>اس</mark></mark> حدیث کو سوچو جہاں مسیح موعود کی تعریف میں لکھا ہے <mark>کہ</mark> یضع الحرب یعنی مسیح جب آئے گا تو دینی جنگوں کا <mark>خاتم</mark>ہ کر دے گا-‘‘ (، روحانی خزائن جلد ۱۷، صفحہ ۱۵) ممانعت کا وقتی فتویٰ ہے آپؑ نے <mark><mark>اس</mark></mark> پیشگوئی کے مطابق جو قرآن اور حدیث میں پائی جاتی تھی ہمیشہ کے لئے تلوار کے ساتھ جہاد منسوخ <mark>نہی</mark>ں کیا بل<mark>کہ</mark> اپنے زمانہ میں جہاد بالسیف کی شرائط نہ پائے جانے کی وجہ سے اُس زمانہ تک منسوخ یا ملتوی کیا جب تک <mark>کہ</mark> <mark><mark>اس</mark></mark> کی شرائط نہ پائی جائیں اور جہاد اکبر اور جہاد کبیر پر عمل کرنے کے لئے بکرّات و مرّات زور دیا۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں: - ’’<mark><mark>اس</mark></mark> زمانہ میں جہاد روحانی صورت سے رنگ پکڑ گیا ہے اور <mark><mark>اس</mark></mark> زمانہ میں جہاد یہی ہے <mark>کہ</mark> اعلائے کلمۂ <mark><mark>اس</mark></mark>لام میں کوشش کریں۔مخالفوں کے الزامات کا جواب دیں۔دینِ متین <mark><mark>اس</mark></mark>لام کی خوبیاں دنیا میں پھیلا ویں۔<mark>آنحضرت</mark> صلی اﷲ علیہ وسلم کی سچائی دنیا پر ظاہر کریں یہی جہاد ہے جب تک <mark>کہ</mark> خدا تعالیٰ کوئی دوسری صورت دنیا میں ظاہرنہ کرے-‘‘ (مکتوب حضرت مسیح موعودؑ بنام میر ناصر نواب <mark>صاحب</mark> مندرجہ رسالہ درود شریف صفحہ ۱۱۳) الفاظ ’’جب تک <mark>کہ</mark> خدا تعالیٰ کوئی دوسری صورت دنیا میں ظاہر نہ کرے-‘‘اور مصرع ’’عیسیٰ مسیح جنگوں کا کردے گا التوا‘‘ صاف ظاہر کر رہے ہیں <mark>کہ</mark> آپ کا فتویٰ ممانعت دینی جہاد بالسیف وقتی اور صرف <mark><mark>اس</mark></mark> وقت تک کے لئے ہے جب تک <mark>کہ</mark> تلوار سے جہاد کے شروط نہ پائے جائیں۔اِسی طرح آپ پادری عماد الدین کے مسئلہ جہاد پر اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں: - ’’<mark><mark>اس</mark></mark> نکتہ چین نے جہاد <mark><mark>اس</mark></mark>لام کا ذکر کیا ہے اور گمان کرتا ہے <mark>کہ</mark> قرآن بغیر لحاظ کسی شرط کے جہاد پر برانگیختہ کرتا ہے سو <mark><mark>اس</mark></mark> سے بڑھ کر اور کوئی جھوٹ اور افترا <mark>نہی</mark>ں اگر کوئی سوچنے والا ہو۔سو جاننا چاہئے <mark>کہ</mark> قرآن شریف یوں ہی لڑائی کے لئے حکم <mark>نہی</mark>ں فرماتا بل<mark>کہ</mark> صرف ان لوگوں کے ساتھ لڑنے کے لئے حکم فرماتا ہے جو خدا تعالیٰ کے