گورنمنٹ انگریزی اور جہاد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxxiii of 615

گورنمنٹ انگریزی اور جہاد — Page xxxiii

کے معنوں میں وسعت پائی جاتی ہے۔قرآن مجید کا کفار تک پہنچانا اور تبلیغ حق اور وعظ و نصیحت کرنا بھی جہا د ہے بلکہ جہاد کبیر ہے۔چنانچہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے: -  (الفرقان: ۵۳) مولانا ابو الکلام آزاد اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: - ’’اِس میں جہاد بالسیف تو مرادنہیں ہو سکتا۔یقینا جہاد کبیر حق کی استقامت اور اس کی راہ میں تمام مصیبتیں اور مشقتیں جھیل لینے کا نام جہاد ہے-‘‘ (مسئلہ خلافت و جزیرہ عرب صفحہ ۱۰۹) اور مولوی ظفر علی خاں اس آیت سے متعلق لکھتے ہیں: - ’’اس آیت میں جَاھِدْھُمْ سے مراد یہ ہے کہ کافروں کو وعظ و نصیحت اور انہیں دعوت و تبلیغ کر کے سمجھانا۔امام فخر الدین رازی نے اپنی تفسیر میں یونہی روشنی ڈالی ہے-‘‘ (زمیندار ۲۵؍ جون ۱۹۳۱ء) اور مولانا حیدر زمان صدیقی لکھتے ہیں: - ’’اسی طرح احادیث میں جابر حکمران کے آگے کلمۂ حق بلند کرنے کو اعظم جہاد کہا گیا ہے اِنَّّ مِنْ اَعْظَمِ الْجِہَادِ کَلِمَۃُ حَقٍّ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ (رواہ ابو داؤد و الترمذی) …… پس اشاعتِ علومِ دینیہ و قیام مدارس دینیہ اور ہر وہ کام جو اقامتِ دین کی غرض سے کیا جائے جہاد کی حقیقت میں شامل ہے-‘‘ (’’اسلام کا نظریہ جہاد‘‘ کتاب منزل لاہور صفحہ ۱۲۸-۱۳۰) پھر حدیث میں آتا ہے کہ جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم جنگ تبوک سے واپس تشریف لائے تو آپ نے فرمایا ’’رَجَعْنَا مِنَ الْجِہَادِ الْاَصْغَرِ اِلَی الْجِہَادِ الْاَکْبَرِ‘‘ (بیہقی) گویا آپ نے جہاد بالسیف کو جہاد اصغر قرار دیا اور تزکیہ نفس کے جہاد کو جہاد اکبر قرار دیا۔یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شرائط جہاد سیفی کے نہ پائے جانے کی وجہ سے فرمایا:۔’’دیکھو میں ایک حکم لے کر آپ لوگوں کے پاس آیا ہوں وہ یہ ہے کہ اب سے تلوار کے جہاد کا خاتمہ ہے مگر اپنے نفسوں کے پاک کرنے کا جہاد باقی ہے۔