گورنمنٹ انگریزی اور جہاد — Page xxvii
…… اس لئے مَیں کہتا ہوں کہ ہر شیعہ کو اس احسان کے عوض میں (جو آزادیٔ مذہب کی صورت میں انہیں حاصل ہے) صمیم قلب سے برٹش حکومت کا رہین احسان اور شکر گذار ہونا چاہئے اور اس کے لئے شرع بھی اُن کو مانع نہیں ہے۔کیونکہ پیغمبر اسلام علیہ و آلہٖ السلام نے نوشیروان عادل کے عہد سلطنت میں ہونے کا ذکر مدح و فخر کے رنگ میں بیان فرمایا ہے-‘‘ (موعظہ تحریف قرآن بابت ماہ اپریل ۱۹۲۳ء صفحہ ۶۷-۶۸ شائع کردہ ینگ مین سوسائٹی خواجگان نارووال لاہور) اِسی طرح شمس العلماء مولانا نذیر احمد دہلوی نے اپنے لیکچر میں جو ۵؍ اکتوبر ۱۸۸۸ء کو ٹاؤن ہال دہلی میں دیا گورنمنٹ انگریزی کے متعلق فرمایا: - ’’کیا گورنمنٹ جابر اور سخت گیر ہے؟ توبہ توبہ ماں باپ سے بڑھ کر شفیق‘‘ (مولانا مولوی حافظ نذیر احمد دہلوی کے لیکچروں کا مجموعہ -بار اول ۱۸۹۰ء صفحہ ۹) اور فرمایا: - ’’جو آسائش ہم کو انگریزی عملداری میں میسر ہے کسی دوسری قوم میں اس کے مہیا کرنے کی صلاحیت نہیں -‘‘ (ایضاً صفحہ ۲۶) اور آنریبل ڈاکٹر سرسید احمد خان بہادر مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے انگریزی گورنمنٹ سے متعلق فرماتے ہیں: - ’’بادشاہ عادل کا کسی رعیت پر مستولی ہونا درحقیقت خدا تعالیٰ کی اپنے بندوں پر رحمت ہے-اور بلاشبہ تمام رعیت اس عادل بادشاہ کی احسان مند ہے۔پس ہم رعایائے ہندوستان جو ملکۂ معظمہ وکٹوریہ دام سلطنتہا ملکۂ ہند و انگلینڈ کی رعیت ہیں۔او ر جو ہم پر عدل و انصاف کے ساتھ بغیر قومی و مذہبی طرفداری کے حکومت کرتی ہے سرتاپا احسان مند ہیں اور ہم کو یہ ہمارے پاک اور روشن مذہب کی تعلیم ہے۔ہم کو اس کی احسان مندی کا ماننا اور شکر بجا لانا واجب ہے-‘‘ (مجموعہ لیکچر ہائے آنریبل ڈاکٹر سرسید احمد خان بہادر ہلالی پریس ساڈھورہ دسمبر ۱۸۹۲ء صفحہ ۱۵) اور ۱۰؍ مئی ۱۸۸۶ء کو بمقام علیگڑھ تقریر میں گورنمنٹ انگریزی سے اپنی خیر خواہی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: - ’’میری نصیحت یہ ہے کہ گورنمنٹ کی جانب سے اپنا دل صاف رکھو اور نیک دلی