گورنمنٹ انگریزی اور جہاد — Page xxvi
یہی مذہب نواب مولوی محمد صدیق حسن خان آف بھوپال اور مولوی نذیر حسین محدث دہلوی کا تھا اور یہی فتویٰ مولوی رشید احمد گنگوہی اور مولوی اشرف علی تھانوی وغیرہ نے دیا اور یہی مذہب مولوی عبدالعزیز اور مولوی محمد مفتی لدھیانہ کا تھا کہ ’’انگریزی گورنمنٹ کی مخالفت مسلمانوں کے لئے شرعاً حرام ہے-‘‘ (دیکھو ’’نصرۃ الابرار‘‘ مؤلفہ مولوی محمد مفتی لدھیانہ ۱۳۰۶ ہجری) اور مولانا ظفر علی خان مدیر اخبار ’’زمیندار‘‘ بھی ہندوستان کو دارالاسلام قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں: - ’’زمیندار اور اس کے ناظرین گورنمنٹ برطانیہ کو سایۂ خدا سمجھتے ہیں اور اس کی عنایاتِ شاہانہ اور انصاف خسروانہ کو اپنی دلی ارادت و قلبی عقیدت کا کفیل سمجھتے ہوئے اپنے بادشاہ عالم پناہ کی پیشانی کے ایک ایک قطرے کی بجائے اپنے جسم کا خون بہانے کے لئے تیار ہیں اور یہی حالت ہندوستان کے تمام مسلمانوں کی ہے-‘‘ (زمیندار ۹؍ نومبر ۱۹۱۱ء) اور لکھتے ہیں: - ’’مسلمان ایک لمحہ کے لئے ایسی حکومت سے بدظن ہونے کا خیال نہیں کر سکتے۔اگر کوئی بدبخت مسلمان گورنمنٹ سے سرکشی کی جرأت کرے تو ہم ڈنکے کی چوٹ کہتے ہیں کہ وہ مسلمان مسلمان نہیں‘‘ (زمیندار ۱۱؍ نومبر ۱۹۱۱ء) اِسی طرح علاّمہ السید الحائری مجتہد العصر (شیعی لیڈر) گورنمنٹ برطانیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فرماتے ہیں: - ’’ہم کو ایسی سلطنت کے زیر سایہ ہونے کا فخر حاصل ہے جس کی حکومت میں انصاف پسندی اور مذہبی آزادی قانون قرار پا چکی ہے جس کی نظیر اور مثال دنیا کی کسی اور سلطنت میں نہیں مل سکتی غور کرو کہ تم اسلام کی تبلیغ اور اشاعت کے لئے کیونکر بے خوف و خطر پوری آزادی کے ساتھ آج سرِ میدان تقریریں اور وعظ کر رہے ہو۔اور کس طرح ہر قسم کے سامان اس مبارک عہد مسعود میں ہمیں میسّر آئے ہیں جو پہلے کسی حکومت میں موجودنہ تھے۔گذشتہ غیر مسلم سلطنتوں کے عہد میں یہ حالت تھی کہ مسلمان اپنی مسجدوں میں اذان تک نہ کہہ سکتے تھے اَور باتوں کا تو ذکر ہی کیا ہے۔حلال چیزوں کے کھانے سے روکا جاتا تھا-کوئی باقاعدہ تحقیقات ہوتی ہی نہ تھی