گورنمنٹ انگریزی اور جہاد — Page xxv
اِسی طرح آپ کے دستِ ر<mark><mark>اس</mark></mark>ت شاگردِ رشید حضرت مولانا محمد <mark><mark>اس</mark></mark>ماعیل شہیدؒ سے اثنائے قیامِ کلکتہ جب <mark>کہ</mark> آپ وعظ فرما رہے تھے۔یہ سوال کیا گیا <mark>کہ</mark> سرکار انگریزی پر جہاد کرنا درست ہے یا <mark>نہی</mark>ں؟ تو آپ نے <mark><mark>اس</mark></mark> کے جواب میں فرمایا <mark>کہ</mark>: - ’’ایسی بے رُو ریا اور غیر متعصب سرکار پر کسی طرح بھی جہاد کرنا درست <mark>نہی</mark>ں ہے-‘‘ (سوانح احمدی کلاں صفحہ ۵۷) اور سرسید احمد خان مرحوم نے اپنی تالیف ’’رسالہ بغاوت ہند‘‘ میں بدلائل ثابت کیا ہے <mark>کہ</mark> بغاوت ۱۸۵۷ء جہادنہ تھی اور نہ مسلمان انگریزی گورنمنٹ سے جہاد کرنے کے شرعاً مجاز تھے- اِسی طرح مولوی محمد حسین بٹالوی نے ایک رسالہ ’’الاقتصاد فی مسائل الجہاد‘‘ ۱۸۷۶ء میں تصنیف کیا اور علمائے <mark><mark>اس</mark></mark>لام کی رائے حاصل کرنے کے لئے انہوں نے لاہور سے لے کر عظیم آباد اور پٹنہ تک سفر کیا اور مختلف فرقہائے <mark><mark>اس</mark></mark>لام کے اکابر علماء کو یہ رسالہ حرف بحرف سُنا کر ان کا توافق رائے حاصل کیا۔<mark><mark>اس</mark></mark> میں آپ دلائل ذکر کر کے لکھتے ہیں: - ’’ان دلائل سے صاف ثابت ہوتا ہے <mark>کہ</mark> ملک ہندوستان باوجودی<mark>کہ</mark> عیسائی سلطنت کے قبضہ میں ہے دارال<mark><mark>اس</mark></mark>لام ہے۔<mark><mark>اس</mark></mark> پر کسی بادشاہ کو عرب کا ہو خواہ عجم کا۔مہدی سوڈانی ہو یا حضرت سلطان شاہ ایرانی، خواہ امیر خر<mark><mark>اس</mark></mark>ان ہو مذہبی لڑائی و چڑھائی کرنا ہرگز جائز <mark>نہی</mark>ں -‘‘ (الاقتصاد صفحہ ۱۶) اور لکھتے ہیں: - ’’اہلِ <mark><mark>اس</mark></mark>لام کو ہندوستان کے لئے گورنمنٹ انگریزی کی مخالفت و بغاوت حرام ہے-‘‘ (اشاعۃ السنہ جلد ۶ نمبر ۱۰ صفحہ ۱۸۷) اور لکھتے ہیں: - ’’<mark><mark>اس</mark></mark> امن و آزادیٔ عام و حسنِ انتظام برٹش گورنمنٹ کی نظر سے اہل حدیثِ ہند <mark><mark>اس</mark></mark> سلطنت کو از بس غنیمت سمجھتے ہیں اور <mark><mark>اس</mark></mark> سلطنت کی رعایا ہونے کو <mark><mark>اس</mark></mark>لامی سلطنتوں کی رعایا ہونے سے بہتر جانتے ہیں۔اور جہاں <mark>کہ</mark>یں وہ رہیں اور جائیں (عرب میں خواہ روم میں خواہ اَ ور <mark>کہ</mark>یں ) کسی اور ری<mark><mark>اس</mark></mark>ت کا محکوم و رعایا ہونا <mark>نہی</mark>ں چاہتے-‘‘ (اشاعۃ السنہ نمبر ۱۰ جلد ۶ صفحہ ۲۹۳)