گورنمنٹ انگریزی اور جہاد — Page xxiv
(کشتی نوح۔روحانی خزائن جلدنمبر۱۹ صفحہ ۷۵حاشیہ صفحہ ۶۹) اور فرماتے ہیں: - ’’جس حالت میں شریعت اسلام کا یہ واضح مسئلہ ہے جس پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ ایسی سلطنت سے لڑائی اور جہاد کرنا جس کے زیر سایہ مسلمان لوگ امن اور عافیت اور آزادی سے زندگی بسر کرتے ہوں اور جس کے عطیات سے ممنون منت اور مرہون احسان ہوں اور جس کی مبارک سلطنت حقیقت میں نیکی اور ہدایت پھیلانے کے لئے کامل مددگار ہو قطعی حرام ہے-‘‘ (مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ۶۶) اور یہی مذہب حضرت سید احمد بریلوی رحمۃ اﷲ علیہ مجدّد تیرھویں صدی کا تھا۔مولانا محمد جعفر تھانیسری ۱؎ مؤلف سوانح احمدی لکھتے ہیں کہ ایک سائل نے یہ سوال کیا کہ آپ انگریزوں سے جو دین اسلام کے منکر اور اس ملک کے حاکم ہیں جہاد کر کے ملک ہندوستان کیوں نہیں لے لیتے؟ آپ نے فرمایا: - ’’سرکار انگریزی گو منکر اسلام ہے مگر مسلمانوں پر ظلم اور تعدّی نہیں کرتی اور نہ ان کوفرض مذہبی اور عبادت لازمی سے روکتی ہے۔ہم ان کے ملک میں علانیہ وعظ کہتے ہیں اور ترویج مذہب کرتے ہیں وہ کبھی مانع اور مزاحم نہیں ہوتی …… ہمارا اصل کام اشاعتِ توحید الٰہی اور احیائے سُنن سیّد المرسلینؐ ہے۔سو وہ بلا روک ٹوک اس ملک میں ہم کرتے ہیں۔پھر ہم سرکار انگریزی پر کس سبب سے جہاد کریں۔اور خلاف اصولِ اسلام طرفین کا خون بلا سبب گرا ویں۔یہ جواب باصواب سن کر سائل خاموش ہو گیا اور اصل غرض جہاد کی سمجھ گیا-‘‘ (سوانح احمدی کلاں صفحہ ۷۱) اور صفحہ ۱۳۹ میں لکھتے ہیں: - ’’سیّد صاحب کا سرکار انگریزی سے جہاد کرنے کا ہرگز ارادہ نہیں تھا۔وہ اس آزاد عملداری کو اپنی عملداری سمجھتے تھے-‘‘ ۱؎ مولانا محمد جعفر تھانیسری کے متعلق مولانا محمد علی جالندھری لکھتے ہیں کہ ہندوستان کی تاریخ میں اور سیاست میں کونسا طالب علم ہے جو کہ مولانا جعفر تھانیسری۔مولانا فضل حق خیرآبادی کے نام اور آزادیٔ وطن کے لئے مساعی سے آشنا نہیں۔(آزاد ۱۷؍ اپریل ۱۹۵۰ء)