گورنمنٹ انگریزی اور جہاد — Page xxiii
حکومت دوبارہ قائم کرنے کے لئے یہ سب فتنہ کھڑا کیا ہے اپنے آپ کو علیحدہ کر لیا اور حضرت اقدس بانی ٔ جماعت احمدیہ جنہوں نے خدا کے حکم سے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔جس کے معنے انگریزوں کی نظر میں سوائے بغاوت کے اَور کچھ نہ تھے۔دوسرے یہ کہ آپ مغل خاندان سے تھے اور اس شجرہ نسب کی ایک شاخ تھے جن کی سلطنت کا خاتمہ ۱۸۵۷ء میں انگریزوں کے ہاتھوں سے ہوا تھا۔اس لئے آپ کے متعلق انگریزوں کا خیال کرنا کہ آپ نے مہدی ہونے کا دعویٰ اس لئے کیا ہے کہ تا اپنے خاندان کی کھوئی ہوئی عظمت اور سلطنت کو واپس لیں مستبعد امر نہیں تھا۔خصوصاً جبکہ مولوی اور پادری بھی گورنمنٹ کو آپ کے خلاف بھڑکانے میں شب و روز مصروف تھے اور خفیہ رپورٹوں کے ذریعہ گورنمنٹ کو آپ سے بدظن کرانے کے لئے کوششیں کرتے رہتے تھے۔انہی وجوہ کی بنا پر حضرت اقدسؑ کو بِکَرّاتٍ وَ مَرَّاتٍ اپنی تالیفات میں جہاد کے متعلق مسلمانوں کے غلط نظریہ کی تردید کرنے اور جہاد کی حقیقت بیان کرنے اور گورنمنٹ کی نسبت اپنے رویہ کی وضاحت کرنے کے لئے اس خاص رسالہ کے لکھنے کی ضرورت پیش آئی۔۱۸۵۷ء کی بغاوت میں آپ کے خاندان نے جو گورنمنٹ کی خدمت کی تھی اس کا بار بار ذکر کرنے کی بھی یہی وجہ تھی اور یہ بتانا مقصود تھا کہ اگر دعویٔ مہدویت سے آپ کا مقصد اپنے خاندان کی کھوئی ہوئی ریاست کا واپس لینا ہوتا تو آپ کا خاندان اس وقت جبکہ انگریزوں کو اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے تھے اُن کی مدد کیوں کرتا۔انگریزی حکومت سے جہاد بالسیف نہ کرنے کی وجہ آپ نے انگریزوں سے جہاد بالسیف کو ناجائز اس لئے قرار دیا کہ شریعت اسلامی کی رُو سے ایسی گورنمنٹ سے جو امن و انصاف قائم کرتی اور کامل مذہبی آزادی دیتی اور مسلمانوں کے مال و جان کی حفاظت کرتی ہو‘جہاد بالسیف کرنا جائز نہیں ہے۔چنانچہ آپ گورنمنٹ انگریزی کی خوشامد کرنے کا الزام دینے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: - ’’اے نادانو! مَیں اس گورنمنٹ کی کوئی خوشامدنہیں کرتا بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ایسی گورنمنٹ سے جو دین اسلام اور دینی رسوم پر کچھ دست اندازی نہیں کرتی اور نہ اپنے دین کو ترقی دینے کے لئے ہم پر تلواریں چلاتی ہے۔قرآن شریف کی رُو سے جنگ مذہبی کرنا حرام ہے۔کیونکہ وہ بھی کوئی مذہبی جہادنہیں کرتی-‘‘