گورنمنٹ انگریزی اور جہاد — Page xxii
دعویٔ مسیحیت اور مہدو ّیت کی وجہ سے مشکوک نگاہوں سے دیکھتی تھی۔(۲) دوسرے اس وجہ سے کہ آپ کے دعویٔ مہدویت سے چند سال پہلے مہدی سوڈانی نے (۱۸۷۱ء۔۱۸۸۲ء) میں مہدی ہونے کا دعویٰ کیا اور سوڈان میں جہاد کا اعلان کر کے انگریزوں سے جو جنگ و قتال کا ہنگامہ برپا کیا تھا اور آخر ۱۸۸۲ء میں شکست کھائی تھی انگریز اسے بھولے نہیں تھے۔اس لئے مہدی کا دعویٰ کرنے والے کو گورنمنٹ انگریزی اچھی نظر سے نہیں دیکھ سکتی تھی اور نہ ایسے وجود کو برداشت کر سکتی تھی- (۳) تیسرے یہ کہ بعض علماء آپ کے خلاف حکومت کے پاس یہ ریشہ دوانیاں کر رہے تھے اور حکومت کو مہدی سوڈانی کا زمانہ یاد دلا کر آپ کے خلاف اُکسا رہے تھے۔چنانچہ مولوی محمد حسین بٹالوی کا تو یہ پیشہ ہو چکا تھا۔وہ اپنے رسالہ ’’اشاعۃ السنہ‘‘ میں لکھتے ہیں: - ’’گورنمنٹ کو اس کا اعتبار کرنا مناسب نہیں اور اس سے پُرحذر رہنا ضروری ہے ورنہ اس مہدیٔ قادیانی سے اس قدر نقصان پہنچنے کا احتمال ہے جو مہدی سوڈانی سے نہیں پہنچا-‘‘ (اشاعۃ السنہ جلد ۱۶ نمبر ۶حاشیہ صفحہ ۱۶۸، ۱۸۹۳ء) (۴) چوتھے پادری صاحبان جو مسیح موعود علیہ السلام کا از روئے دلائل مقابلہ کرنے سے عاجز آ چکے تھے وہ اپنی شکست کا آپ سے انتقام لینا اسی صورت میں آسان خیال کرتے تھے کہ گورنمنٹ انگریزی کو جو ان کی ہم مذہب تھی آپ سے بدظن کر کے آپ کو قید کرا ویں یا آپ پر پابندی عائد کرا کے تبلیغ اسلام سے باز رکھیں چنانچہ پادری ہنری مارٹن کلارک نے اس مقدمہ اقدام قتل میں جو آپ کے خلاف پادریوں کی سازش سے کھڑا کیا گیا تھا یہ حلفی بیان دیا تھا کہ: - ’’مرزا صاحب کی نسبت میری ذاتی رائے یہ ہے کہ وہ ایک خراب فتنہ انگیز اور خطرناک آدمی ہے اچھا نہیں ہے-‘‘ (روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ ۲۰۰) پادری ہنری مارٹن کلارک انگریزی حکام کے ساتھ کُھلے بندوں ملتا اور اُن کے ساتھ کھاتا پیتا۔اٹھتا بیٹھتا تھا گورنمنٹ انگریزی کے حکّام کے کان آپ کے خلاف بھرتا رہتا تھا اور اسی طرح دوسرے پادری عماد الدین وغیرہ بھی اپنی تحریروں میں بھی آپ پر اس قسم کے الزام لگاتے تھے۔(۵) پانچویں آپ کے دعویٰ کا زمانہ وہ تھا جبکہ ۱۸۵۷ء کی بغاوت پر تھوڑا ہی عرصہ گذرا تھا۔بغاوت میں گو ہندوؤں اور مسلمانوں نے حصہ لیا تھا۔لیکن ہندوؤں نے یہ کہہ کر کہ اصل میں مسلمانوں نے اپنی