فتح اسلام — Page 43
روحانی خزائن جلد۳ ۴۳ فتح اسلام جو ضروری مطلب پر جا ٹھہرتی ہے تو تم ہر گز آرام نہ کرو جب تک وہ اصل مطلب تمہیں حاصل نہ ہو جائے۔ اے لوگو تم اپنے بچے خداوند خدا اپنے حقیقی خالق اپنے واقعی معبود کی شناخت اور محبت اور اطاعت کے لئے پیدا کئے گئے ہو۔ پس جب تک یہ امر جو تمہاری خلقت کی علت غائی ہے بین طور پر تم میں ظاہر نہ ہو تب تک تم اپنی حقیقی نجات سے بہت دور ہو۔ اگر تم انصاف سے بات کرو تو تم اپنی اندرونی حالت پر آپ ہی گواہ ہو سکتے ہو کہ بجائے خدا پرستی کے ہر دم دنیا پرستی کا ایک قوی ہیکل بت تمہارے دل کے سامنے ہے جس کو تم ایک ایک سکنڈ میں ہزار ہزار سجدہ کر رہے ہو اور تمہارے تمام اوقات عزیز دنیا کی جق جق بک بک میں ایسے مستغرق ہور ہے ہیں کہ تمہیں دوسری طرف نظر اٹھانے کی فرصت نہیں۔ کبھی تمہیں یاد بھی ہے کہ انجام اس ہستی کا کیا ہے۔ کہاں ہے تم میں انصاف ! کہاں ہے تم میں امانت ! کہاں ہے تم میں وہ راستبازی اور خدا ترسی اور دیانتداری اور فروتنی جس کی طرف تمہیں قرآن بلاتا ہے تمہیں کبھی بھولے بسرے برسوں میں بھی تو یاد نہیں آتا کہ ہمارا کوئی خدا بھی ہے۔ بھی تمہارے دل میں ﴿۷۳) نہیں گذرتا کہ اُس کے کیا کیا حقوق تم پر ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ تم نے کوئی غرض کوئی واسطہ کوئی تعلق اس قیوم حقیقی سے رکھا ہوا ہی نہیں اور اُس کا نام تک لینا تم پر مشکل ہے۔ اب چالا کی سے تم لڑو گے کہ ہر گز ایسا نہیں لیکن خدا تعالیٰ کا قانون قدرت تمہیں شرمندہ کرتا ہے جبکہ وہ تمہیں جتلاتا ہے کہ ایمانداروں کی نشانیاں تم میں نہیں۔ اگر چہ تم اپنی دنیوی فکروں اور سوچوں میں بڑے زور سے اپنی دانشمندی اور متانت رائے کے مدعی ہو مگر تمہاری لیاقت تمہاری نکتہ رسی تمہاری دوراندیشی صرف دنیا کے کناروں تک ختم ہو جاتی ہے اور تم اپنی اس عقل کے ذریعہ سے اُس دوسرے عالم کا ایک ذرہ سا گوشہ بھی نہیں دیکھ سکتے جس کی سکونت ابدی کے لئے تمہاری روحیں پیدا کی گئی ہیں۔ تم دنیا کی زندگی پر ایسے مطمئن بیٹھے ہو جیسے کوئی شخص ایک چیز ہمیشہ رہنے والی پر مطمئن ہوتا ہے مگر وہ دوسرا عالم جس کی خوشیاں بچے اطمینان کے لائق اور دائی ہیں