فتح اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 36 of 748

فتح اسلام — Page 36

فتح اسلام روحانی خزائن جلد۳ ۳۶ کے مراتب میں کہاں تک ترقی کی ہے اور وہ سطر میں یہ ہیں۔ مولانا ، مرشد نا ، امامنا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ عالی جناب میری دعایہ ہے کہ ہر وقت حضور کی جناب میں حاضر رہوں اور امام زمان سے جس مطلب کے واسطے وہ مجدد کیا گیا وہ مطالب حاصل کروں ۔ اگر اجازت ہو تو میں نوکری سے استعفا دے دوں اور دن رات خدمت عالی میں پڑا رہوں یا اگر حکم ہو تو اس تعلق کو چھوڑ کر دنیا میں پھروں اور لوگوں کو دین حق کی طرف بلاؤں اور اسی راہ میں جان دوں۔ میں آپ کی راہ میں قربان ہوں۔ میرا جو کچھ ہے میرا نہیں آپ کا ہے۔ حضرت پیر و مرشد میں کمال راستی سے عرض کرتا ہوں کہ میرا سارا مال و دولت اگر دینی اشاعت میں خرچ ہو جائے تو میں مراد کو پہنچ گیا۔ اگر خریدار براہین کے توقف طبع کتاب سے مضطرب ہوں تو مجھے اجازت فرمائیے کہ یہ ادنی خدمت بجالاؤں کہ اُن کی تمام قیمت ادا کر وہ اپنے پاس سے واپس کر دوں۔ حضرت پیر و مرشد نابکار شرمسار عرض کرتا ہے اگر منظور ہو تو میری سعادت ہے۔ میرا منشاء ہے کہ ۲۲ براہین کے طبع کا تمام خرچ میرے پر ڈال دیا جائے پھر جو کچھ قیمت میں وصول ہو وہ روپیہ آپ کی ضروریات میں خرچ ہو۔ مجھے آپ سے نسبت فاروقی ہے اور سب کچھ اس راہ میں فدا کرنے کے لئے طیار ہوں۔ دعا فرما دیں کہ میری موت صدیقوں کی موت ہو۔