فتح اسلام — Page 29
روحانی خزائن جلد۳ ۲۹ فتح اسلام کہ ان عزیز مہمانوں کی خدمت اور دعوت اور ضیافت میں کیا کچھ خرچ ہوا ہوگا اور اُن کے سرما ۳۸ اور گرما کے آرام کے لئے ضروری طور پر کیا کچھ بنانا پڑا ہو گا۔ بے شک ایک دور اندیش آدمی تعجب میں پڑے گا کہ اس قدر گروہ کثیر کی مہمانداری کے تمام لوازم اور مراتب وقتا فوقتا کیوں کر انجام پذیر ہوئے ہوں گے اور آئندہ کس بنا پر ایسا بڑا کام جاری ہے۔ ایسا ہی وہ بیس ہزار اشتہار جو انگریزی اور اُردو میں چھاپے گئے۔ اور پھر بارہ ہزار سے کچھ زیادہ مخالفین کے سرگروہوں کے نام رجسٹری کرا کر بھیجے گئے اور ملک ہند میں ایک بھی ایسا پادری نہ چھوڑا جس کے نام وہ رجسٹری شدہ اشتہار نہ بھیجے گئے ہوں بلکہ یورپ اور امریکہ کے ممالک میں بھی یہ اشتہارات بذریعہ رجسٹری بھیج کر حجت کو تمام کر دیا گیا۔ کیا ان اخراجات پر غور کرنے سے یہ تعجب کا مقام نہیں کہ اس بضاعت مزجاة کے ساتھ کیوں کر تحمل ان مصارف کا ہورہا ہے اور یہ تو بڑے بڑے اخراجات ہیں۔ اگر ان اخراجات کو ہی جانچا جائے کہ جو ہر مہینہ میں خطوط کے بھیجنے میں اُٹھانے پڑتے ہیں تو وہ بھی ایسی رقم کثیر نکلے گی جس کے مسلسل جاری رہنے کے لئے ابھی تک کوئی امدادی سبیل نہیں۔ اور جو لوگ سلسلہ بیعت میں داخل ہو کر حق کی طلب کی (۴۹) غرض سے اصحاب الصفہ کی طرح میرے پاس ٹھہر نا چاہتے ہیں اُن کے گزارہ کے لئے بھی مجھے آسمان کی طرف نظر ہے اور میں جانتا ہوں کہ ان پنجگانہ شاخوں کے قائم رکھنے کی سبیل آپ وہ قادر مطلق نکال دے گا جس کے ارادہ خاص سے اس کارخانہ کی بنا ہے مگر بنظر تبلیغ ضروری ہے کہ قوم کو اس سے مطلع کر دیں۔ میں نے سنا ہے کہ بعض نا واقف یہ الزام میری نسبت شائع کرتے ہیں کہ کتاب براہین احمدیہ کی قیمت اور کسی قدر چندہ بھی قریب تین ہزار روپیہ کے لوگوں سے وصول ہوا۔ مگر اب تک کتاب بتمام و کمال طبع نہیں ہوئی۔ میں اس کے جواب میں اُن پر واضح کرتا ہوں کہ روپیہ جولوگوں سے وصول ہواوہ صرف تین ہزار نہیں بلکہ علاوہ اس کے اور روپیہ بھی شاید قریب دس ہزار کے آیا ہوگا کہ جو نہ کتاب کے لئے چندہ تھا اور نہ کتاب کی قیمت میں دیا گیا تھا بلکہ بعض دعا کے خواستگاروں نے محض نذر کے طور پر دیا یا بعض