فتح اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 26 of 748

فتح اسلام — Page 26

روحانی خزائن جلد ۳ ۲۶ فتح اسلام فضول خیال کرے گا مگر خدا تعالیٰ کی نظر میں یہ سب ضروری ہیں اور جس اصلاح کے لئے اُس نے ارادہ فرمایا ہے وہ اصلاح بجز استعمال اِن پانچوں طریقوں کے ظہور پذیر نہیں ہو سکتی۔ (۴۴) اگر چہ یہ تمام کاروبار خدا تعالیٰ کی خاص امداد اور خاص فضل پر چھوڑا گیا ہے اور اس کے انجام پہنچانے کے لئے وہی کافی اور اُسی کے مبشر انہ وعدے اطمینان بخش ہیں لیکن اُسی کے حکم اور تحریک سے مسلمانوں کو امداد کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے جیسا خدا تعالیٰ کے تمام نبی جو گذر چکے ہیں مشکلات پیش آمدہ کے وقت پر توجہ دلاتے رہے ہیں سو اُسی توجہ وہی کی غرض سے کہتا ہوں ارادہ کیا جائے تو وہ جو امامت کا منصب رکھتے ہیں از بس ناراض اور نیلے پیلے ہو جاتے ہیں۔ اور اگر اُن کا اقتدا کیا جائے تو نماز کے ادا ہو جانے میں مجھے شبہ ہے کیونکہ علانیہ طور پر ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے امامت کا ایک پیشہ اختیار کر رکھا ہے اور وہ پانچ وقت جا کر نماز نہیں پڑھتے بلکہ ایک دوکان ہے کہ ان وقتوں میں جا کر کھولتے ہیں اور اسی دوکان پر اُن کا اور اُن کے عیال کا گزارہ ہے چنانچہ اس پیشہ کے عزل و نصب کی حالت میں مقدمات تک نوبت پہنچتی ہے اور مولوی صاحبان امامت کی ڈگری کرانے کے لئے اپیل در اپیل کرتے پھرتے ہیں۔ پس یہ امامت نہیں یہ تو حرام خوری کا ایک مکر وہ طریقہ ہے۔ کیا آپ بھی ایسے نفسانی بیچ میں پھنسے ہوئے نہیں۔ پھر کیوں کر کوئی شخص دیکھ بھال کر اپنا ایمان ضائع کرے۔ مساجد میں منافقین کا جمع ہونا جو احادیث نبویہ میں آخری زمانہ کے حالات میں بیان کیا گیا ہے وہ پیشگوئی انہیں ملا صاحبوں سے متعلق ہے جو محراب میں کھڑے ہو کر زبان سے قرآن شریف پڑھتے اور دل میں روٹیاں گنتے ہیں۔ اور میں نہیں جانتا کہ ظہر اور عصر یا مغرب اور عشا کو سفر کی حالت میں جمع کرنا کب سے منع ہو گیا اور کس نے تاخیر کی حرمت کا فتویٰ دیا۔ یہ عجیب بات ہے کہ آپ کے نزدیک اپنے بھائی مردہ کا گوشت کھانا تو حلال ہے مگر سفر کی حالت میں ظہر اور عصر کو ایک جگہ پڑھنا قطعاً حرام ہے۔ انفوا الله ايها الموحدون فان الموت قريب والله يعلم ما تكتمون - منه