فتح اسلام — Page 25
روحانی خزائن جلد۳ ۲۵ فتح اسلام انکار میں رہے گا اس کے لئے موت در پیش ہے۔ اور فرمایا کہ جو شخص تیرے ہاتھ میں ہاتھ دے گا اُس نے تیرے ہاتھ میں نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہاتھ دیا۔ اور اُس خداوند (۴۳) خدا نے مجھے بشارت دی کہ میں تجھے وفات دوں گا اور اپنی طرف اُٹھا لوں گا مگر تیرے بچے متبعین اور محبین قیامت کے دن تک رہیں گے اور ہمیشہ منکرین پر انہیں غلبہ رہے گا۔ انچ طور کا سلسلہ ہے جو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے قائم کیا اگر چہ ایک سرسری نگاہ والا آدمی صرف تالیف کے سلسلہ کو ضروری سمجھے گا اور دوسری شاخوں کو غیر ضروری اور یہ ہادی اور سر پرست ایسے ایسے مولوی سمجھے گئے ہیں۔ اب ناظرین اس اعتراض پر بھی غور کریں جو بخل اور حسد کے جوش سے مولوی صاحب کے منہ سے نکلا ظاہر ہے کہ یہ عاجز صرف چند روز تک مسافرانہ طور پر علیگڑھ میں ٹھہرا تھا اور جو کچھ مسافروں کے لئے شریعت اسلام نے رھتیں عطا کی ہیں اور اُن سے دائمی طور پر انحراف کرنا ایک الحاد کا طریق قرار دیا ہے ان سب امور کی رعایت میرے لئے ایک ضروری امر تھا سو میں نے وہی کیا جو کرنا چاہیے تھا۔ اور میں اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ میں نے اُس چند روزہ اقامت کی حالت میں بعض دفعہ مسنون طور پر دو نمازوں کو جمع کر لیا ہے اور کبھی ظہر کے اخیر وقت پر ظہر اور عصر دونوں نمازوں کو اکٹھی کر کے پڑھا ہے مگر حضرات موحدین تو کبھی کبھی گھر میں بھی نمازوں کو جمع کر کے پڑھ لیتے ہیں اور بلا سفر ومطر پر عملدرآمد رہتا ہے۔ میں اس سے بھی انکار نہیں کر سکتا کہ میں نے ان چند دنوں میں مسجدوں (۴۱) میں حاضر ہونے کا بکلی التزام نہیں کیا مگر باوجود اپنی علالت طبع اور سفر کی حالت کے بکلی ترک بھی نہیں کیا۔ چنانچہ مولوی صاحب کو معلوم ہوگا کہ اُن کے پیچھے بھی جمعہ کی نماز پڑھی تھی جس کے ادا ہو جانے میں اب مجھے شک پڑ گیا۔ یہ بیچ اور بالکل سچ ہے کہ میں ہمیشہ اپنے سفر کے دنوں میں مسجدوں میں حاضر ہونے سے کراہت ہی کرتا ہوں مگر معاذ اللہ اس کی وجہ کسل یا استخفاف احکام الہی نہیں بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ اس زمانہ میں ہمارے ملک کی اکثر مساجد کا حال نہایت ابتر اور قابل افسوس ہو رہا ہے اگر ان مسجدوں میں جا کر آپ امامت کا