فتح اسلام — Page 24
روحانی خزائن جلد ۳ ۲۴ فتح اسلام جاری ہے اور ہر ایک مہینے میں غالباً تین سو سے سات سو یا ہزار تک خطوط کی آمد ورفت کی نوبت پہنچتی ہے۔ پانچویں شاخ اس کارخانہ کی جو خدا تعالیٰ نے اپنی خاص وحی اور الہام سے قائم کی (۲۲) مریدوں اور بیعت کرنے والوں کا سلسلہ ہے۔ چنانچہ اُس نے اس سلسلہ کے قائم کرنے کے وقت مجھے فرمایا کہ زمین میں طوفان ضلالت بر پا ہے تو اس طوفان کے وقت میں یہ کشتی طیار کر جو شخص اس کشتی میں سوار ہو گا وہ غرق ہونے سے نجات پا جائے گا اور جو اقول اُن لوگوں کو بھی یقین نہیں آیا تھا جن کے حق میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے كَذَّبُوا بایتِنَا کذاب کے فرعون کو یقین نہ آیا۔ یہودیوں کے فقیہوں فریسیوں کو یقین نہ آیا۔ ابوجہل ابو لہب کو یقین نہ آیا۔ مگر اُن کو آیا جو دل کے غریب اور نفس کے پاک تھے۔ ایں سعادت بزور بازو نیست تا نہ بخشد خدائے بخشندہ قولہ مدعی ہونا کرامات کے خلاف ہے اور یہ کہنا کہ جس کو انکار ہو وہ آکر دیکھے یہ دعاوی باطلہ ہیں ۔ ا قول یہ باتیں انسان کی طرف سے نہیں بلکہ اس کی طرف سے ہیں جس کو ہر ایک دعوی پہنچتا ہے پھر کون حق پرست ان کو باطل کہہ سکتا ہے۔ ہاں یہ بھی ہے کہ ادعا کسی فوق القدرت بات کا کوئی نبی بھی نہیں کر سکتا مگر کیا ایسا ادعا بتوسط کسی نبی یا رسول یا محدث کے خدا تعالیٰ کی طرف سے بھی جائز نہیں۔ قولہ میں ملاقات کرنے سے بالکل بے عقیدہ ہو گیا ہوں میری رائے میں جو موحد اُن سے ملاقات کرے گا اُن کا معتقد نہ رہے گا۔ نماز اُن کی اخیر وقت میں ہوتی ہے جماعت کے پابند نہیں۔ اقول مولوی صاحب کی بے عقیدگی کی تو مجھے پروانہیں مگر اُن کے جھوٹ اور افترا اور غایت درجہ کی بدظنیوں پر سخت تعجب ہے۔ اے خداوند کریم اس امت پر رحم کر جس کے رہنما اور النبا : ٢٩