فتح اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 23 of 748

فتح اسلام — Page 23

روحانی خزائن جلد۳ ۲۳ فتح اسلام اور حقارت اور ذلت کا سیہ داغ مسلمانوں کی پیشانی سے دھویا جائے۔ اسی کی بشارت دے کر خداوند خدا نے مجھے بھیجا اور کہا کہ بخرام کہ وقت تو نزدیک رسید و پائے محمد یاں بر منار بلند تر محکم افتاد۔ چوتھی شاخ اس کارخانہ کی وہ مکتوبات ہیں جو حق کے طالبوں یا مخالفوں کی طرف لکھے ﴿۴۰﴾ جاتے ہیں۔ چنانچہ اب تک عرصہ مذکورہ بالا میں نوے ہزار سے بھی کچھ زیادہ خط آئے ہوں گے جن کا جواب لکھا گیا بجز بعض خطوط کے جو فضول یا غیر ضروری سمجھے گئے اور یہ سلسلہ بھی بدستور (۴۱ بقیه حاشیه اس تالیف کو پڑھ کر کہیں گے کہ یہ کتاب اس شخص کی تالیف نہیں بل اعانه عليه قوم آخرون (۳۷) (دیکھو براہین احمدیہ کا صفحہ ۲۳۹) قولہ سید احمد عرب جن کو میں ثقہ جانتا ہوں وہ مجھ سے بلا واسطہ بیان کرتے تھے کہ میں دو ماہ تک اُن کے پاس اُن کے معتقدین خاص کے زمرہ میں رہا اور وقمع فو قمع بنظر تجنس و امتحان ہر ایک وقت خاص پر حاضر رہ کر جانچا تو معلوم ہوا کہ در حقیقت اُن کے پاس آلات نجوم موجود ہیں وہ اُن سے کام لیتے ہیں۔ اقول تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَ كُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنْفُسَنَا وَأَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللهِ عَلَى الْكَذِبِينَ ۔ میری طرف سے در حقیقت یہی جواب ہے جو میں نے آیات ربانی کے ذریعہ سے لکھ دیا اور مجھے ہرگز یاد نہیں کہ وہ سید احمد صاحب کون بزرگ تھے کہ جو دو ماہ تک میرے پاس رہے۔ اس بات کا بار ثبوت ﴿۳۸﴾ مولوی صاحب کے ذمہ ہے کہ اُن کو میرے روبرو پیش کریں تا پوچھا جائے کہ انہوں نے کن آلات کو مشاہدہ کیا تھا اور جبکہ میں ابھی تک زندہ موجود ہوں اس حالت میں مولوی صاحب دو ماہ تک آپ ہی رہ کر دیکھ لیں کسی دوسرے عربی یا عجمی کے توسط کی کیا ضرورت ہے۔ قولہ مجھے فقرات الہام پر غور کرنے سے ہرگز یقین نہیں آتا کہ وہ الہام ہیں۔ ال عمران : ٦٢