فتح اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 15 of 748

فتح اسلام — Page 15

روحانی خزائن جلد۳ ۱۵ فتح اسلام اور اُن کی کمزوری کو دور کر دیا گیا اس کا علم خدا تعالیٰ کو ہے۔ مگر اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ زبانی تقریریں جو سائلین کے سوالات کے جواب میں کی گئیں یا کی جاتی ہیں یا اپنی طرف سے محل اور موقعہ کے مناسب کچھ بیان کیا جاتا ہے یہ طریق بعض صورتوں میں تالیفات کی نسبت نہایت (۲۳) مفید اور مؤثر اور جلد تر دلوں میں بیٹھنے والا ثابت ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام نبی اس طریق کو ملحوظ رکھتے رہے ہیں اور بجز خدا تعالیٰ کے کلام کے جو خاص طور پر بلکہ قلم بند ہو کر شائع کیا گیا باقی جس قدر مقالات انبیاء ہیں وہ اپنے اپنے محل پر تقریروں کی طرح پھیلتے رہے ہیں۔ عام قاعدہ (۲۳) حضرت مسیح بن مریم کا معاملہ پڑا تھا بدرجہا بہتر اور حال کی اسلامی ریاستوں سے بلحاظ امن اور عام رفاہیت کے پھیلانے اور آزادی بخشنے اور حفاظت اور تربیت رعایا اور انتظام قانون معدلت اور سرکوبی مجرموں کے بمراتب افضل ہے۔ خدا تعالی کی عمیق حکمت نے جیسا کہ مسیح کو یہودیوں کے ایام حکومت میں اور اُن کی گورنمنٹ کے ماتحت مبعوث نہیں فرمایا تھا۔ ایسا ہی اس عاجز کی نسبت بھی یہی مصلحت مرعی رکھی گئی تا سمجھنے والوں کے لئے نشان ہو۔ اگر زمانہ حال کے منکر میرے ساتھ باستہزاء پیش آویں تو افسوس کا مقام نہیں کیونکہ ان سے پہلے جو گزرے ہیں انہوں نے ان سے بدتر اپنے وقت کے نبیوں کے ساتھ سلوک کیا مسیح سے بھی (۲۵) بہت مرتبہ جنسی ٹھٹھا ہوا۔ ایک دفعہ بھائیوں نے ہی جو ایک ہی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے تھے چاہا کہ اس کو دیوانہ قراردے کر قید خانہ میں مقید کرا دیں ۔ اور بیگانوں نے تو کئی دفعہ اُس کو جان سے ماردینے کا ارادہ کیا اور اُس پر پتھر چلائے اور نہایت تحقیر کی نظر سے اُس کے مُنہ پر تھوکا بلکہ ایک دفعہ اس کو اپنے زعم میں صلیب پر چڑھا کر قتل کر دیا مگر چونکہ ہڈی نہیں تو ڑی گئی تھی اس لئے وہ ایک خوش اعتقاد اور نیک آدمی کی حمایت سے بچ گیا اور بقیہ ایام زندگی بسر کر کے آسمان کی طرف اُٹھایا گیا ۔ مسیح کے ارادت مندوں اور دن رات کے دوستوں اور رفیقوں نے بھی لغزش کھائی۔ ایک نے تمیں روپے رشوت لے کر اس کو پکڑوا دیا اور ایک نے