فتح اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 12 of 748

فتح اسلام — Page 12

روحانی خزائن جلد ۳ ۱۲ فتح اسلام (۱۸) بھیج کر ایسا ہی کیا اور دنیا کو حق اور راستی کی طرف کھینچنے کے لئے کئی شاخوں پر امر تائید حق اور اشاعت اسلام کو منقسم کر دیا۔ چنانچہ منجملہ ان شاخوں کے ایک شاخ تالیف اور تصنیف کا سلسلہ ہے جس کا اہتمام اس عاجز کے سپرد کیا گیا۔ اور وہ معارف و دقائق سکھلائے گئے جو (19) انسان کی طاقت سے نہیں بلکہ صرف خدا تعالی کی طاقت سے معلوم ہو سکتے ہیں اور انسانی تکلف سے نہیں بلکہ روح القدس کی تعلیم سے مشکلات حل کر دئیے گئے ۔ شاید کوئی بے خبر اس حیرت میں پڑے کہ فرشتوں کا اُترنا کیا معنی رکھتا ہے۔ سو واضح ہو کہ عادت اللہ اس طرح پر جاری ہے کہ جب کوئی رسول یا نبی یا محدث اصلاح خلق اللہ کے لئے آسمان سے اترتا ہے تو ضرور اس کے ساتھ اور اس کے ہمرکاب ایسے فرشتے اترا کرتے ہیں کہ جو مستعد دلوں میں ہدایت ڈالتے ہیں اور نیکی کی رغبت دلاتے ہیں اور برابر اترتے رہتے ہیں جب تک کفر اور ضلالت کی ظلمت دور ہو کر ایمان اور راستبازی کی صبح صادق نمودار ہو جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے تَنَزَّلُ الْمَلكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ - سَلَمُ هِي حَتَّى مطلع الفجر لے سو ملائکہ اور روح القدس کا تنزل یعنی آسمان سے اتر نا اُسی وقت ہوتا ہے جب ایک عظیم الشان آدمی خلعت خلافت پہن کر اور کلام الہی سے شرف پا کر زمین پر نزول فرماتا ہے روح القدس خاص طور پر اس خلیفہ کو ملتی ہے اور جو اس کے ساتھ ملائکہ ہیں وہ تمام دنیا کے مستعد دلوں پر نازل کئے جاتے ہیں ۔ تب دنیا میں جہاں جہاں جوہر قابل پائے جاتے ہیں سب پر اُس نور کا پر توہ پڑتا ہے اور تمام عالم میں ایک نورانیت پھیل جاتی ہے اور فرشتوں کی پاک تاثیر سے خود بخود دلوں میں نیک خیال پیدا ہونے لگتے ہیں اور توحید پیاری معلوم ہونے لگتی ہے اور سیدھے دلوں میں راست پسندی اور حق جوئی کی ایک روح پھونک دی جاتی ہے اور کمزوروں کو طاقت عطا کی جاتی ہے اور ہر طرف ایسی ہوا چلنی شروع ہو جاتی ہے کہ جو اس مصلح کے مدعا اور مقصد کو مدد دیتی ہے ایک پوشیدہ ہاتھ کی تحریک سے خود بخو دلوگ صلاحیت کی طرف کھسکتے چلے آتے ہیں اور قوموں میں ایک جنبش ہی شروع ہو جاتی ہے ۔ تب نا سمجھ لوگ گمان کرتے ہیں کہ دنیا کے خیالات نے خود بخو دراستی کی طرف القدر : ۵-۶