دافع البَلاء — Page 233
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۲۹ دافع البلاء اب اس تمام وحی سے تین باتیں ثابت ہوئی ہیں (۱) اول یہ کہ طاعون دُنیا میں اس لئے آئی ہے کہ خدا کے مسیح موعود سے نہ صرف انکار کیا گیا بلکہ اُس کو دُ کھ دیا گیا۔ اُس کے قتل کرنے کے لئے منصوبے کئے گئے ۔ اُس کا نام کا فر اور دجال رکھا گیا ۔ پس خدا نے نہ چاہا کہ اپنے رسول کو بغیر گواہی چھوڑے۔ اس لئے اُس نے آسمان اور زمین دونوں کو اس (9) کی سچائی کا گواہ بنا دیا۔ آسمان نے کسوف خسوف سے گواہی دی جو رمضان میں ہوا۔ اور زمین نے طاعون کے ساتھ گواہی دی تا کہ خدا کا وہ کلام پورا ہو جو براہین احمدیہ میں ہے اور وہ یہ ہے ۔قل عندى شهادة من الله فهل انتم تومنون۔ قل عندى شهادة من الله فهل انتم تسلمون ۔ یعنی میرے پاس خدا کی گواہی ہے پس کیا تم ایمان لاؤ گے یا نہیں۔ اور پھر میں کہتا ہوں کہ میرے پاس خدا کی گواہی ہے پس کیا تم قبول کرو گے یا نہیں۔ پہلی گواہی سے مراد آسمان کی گواہی ہے جس میں کوئی جبر نہیں ۔ اس لئے اس میں تؤمنون کا لفظ استعمال کیا گیا۔ اور دوسری گواہی زمین کی ہے ۔ یعنی طاعون کی جس میں جبر موجود ہے کہ خوف دے کر اس جماعت میں داخل کرتی ہے۔ اس لئے اس میں تُسلمون کا لفظ استعمال کیا گیا ۔ (۲) دوسری بات جو اس وحی سے ثابت ہوئی وہ یہ ہے کہ یہ طاعون اس حالت میں فرد ہوگی جب کہ لوگ خدا کے فرستادہ کو قبول کر لیں گے اور کم سے کم یہ کہ شرارت اور ایذا اور بد زبانی سے باز آ جائیں گے ۔ کیونکہ براہین احمدیہ میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں آخری دنوں میں طاعون بھیجوں گا تا کہ میں ان خبیثوں اور شریروں کا منہ بند کر دوں جو میرے رسول کو گالیاں دیتے ہیں ۔ اصل بات یہ ہے کہ محض انکار اس بات کا موجب مجھے اطلاع دی گئی اور وہ یہ ہے يَا وَلِيُّ اللهِ كُنتُ لَا أَعْرِفُكَ یعنی اے خدا کے ولی میں اس سے پہلے تجھے نہیں پہچانتی تھی۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ کشفی طور پر زمین میرے سامنے کی گئی اور اُس نے یہ کلام کیا کہ میں اب تک تجھے نہیں پہچانتی تھی کہ تو ولی الرحمان ہے۔ منہ حاشیه