دافع البَلاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 228 of 822

دافع البَلاء — Page 228

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۲۴ دافع البلاء یعنی ائمہ اہل بیت کی محبت کو پرستش کی حد تک پہنچا دینا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو گالیاں دیتے رہنا اس سے بہتر کوئی علاج نہیں اور میں نے سُنا ہے کہ بمبئی میں جب طاعون شروع ہوئی ہے تو پہلے لوگوں میں یہی خیال پیدا ہوا تھا کہ یہ امام حسین کی کرامت ہے کیونکہ جن ہندوؤں نے شیعہ سے کچھ تکرار کیا تھا اُن میں طاعون شروع ہو گئی تھی۔ پھر جب اسی مرض نے شیعہ میں بھی قدم رنجہ فرمایا تب تو یا حسین کے نعرے کم ہو گئے۔ یہ تو مسلمانوں کے خیالات ہیں جو طاعون کے دُور کرنے کے لئے سوچے گئے ہیں۔ اور عیسائیوں کے خیالات کے اظہار کے لئے ابھی ایک اشتہار پادری وائٹ بریخت صاحب اور اُن کی انجمن کی طرف سے نکلا ہے اور وہ یہ کہ طاعون کے دُور کرنے کے لئے اور کوئی تدبیر کافی نہیں بجز اس کے کہ حضرت مسیح کو خدا مان لیں اور اُن کے کفارہ پر ایمان لے آویں۔ اور ہندوؤں میں سے آریہ دھرم کے لوگ پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ یہ بلائے طاعون وید کے ترک کرنے کی وجہ سے ہے۔ تمام فرقوں کو چاہیے کہ ویدوں کی سٹ و ڈ یا پر ایمان لاویں اور تمام نبیوں کو نعوذ باللہ مفتری قرار دے دیں تب اس تد بیر سے طاعون دُور ہو جائے گی۔ اور ہندوؤں میں سے جو سناتن دھرم فرقہ ہے اس فرقہ میں دفع طاعون کے بارے میں جو رائے ظاہر کی گئی ہے اگر ہم پر چہ اخبار عام نہ پڑھتے تو شاید اس عجیب رائے سے بے خبر رہتے اور وہ رائے یہ ہے کہ یہ بلائے طاعون گائے کی وجہ سے آئی ہے۔ اگر گورنمنٹ یہ قانون پاس کر دے کہ اس ملک میں گائے ہر گز ہر گز ذبح نہ کی جائے تو پھر دیکھئے کہ طاعون کیونکر دفع ہو جاتی ہے۔ بلکہ اسی اخبار میں ایک جگہ لکھا ہے کہ ایک شخص نے گائے کو بولتے سنا کہ وہ کہتی ہے کہ (۵) میری وجہ سے ہی اس ملک میں طاعون آیا ہے۔ اب اے ناظرین خود سوچ لو کہ اس قدر متفرق اقوال اور دعاوی سے کس قول کو دُنیا کے آگے صریح اور بدیہی طور پر فروغ ہو سکتا ہے۔ یہ تمام اعتقادی امور ہیں اور اس نازک وقت میں جب تک کہ دنیا ان عقائد کا فیصلہ کرے خود دنیا کا فیصلہ ہو جائے گا۔ اس لئے