دافع البَلاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 227 of 822

دافع البَلاء — Page 227

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۲۳ دافع البلاء اور مسلمان لوگ جیسا کہ میاں شمس الدین سکرٹری انجمن حمایت اسلام لاہور کے اشتہار سے سمجھا جاتا ہے جس کو انہوں نے ماہ حال یعنی اپریل ۱۹۰۲ء میں شایع کیا ہے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تمام فرقے مسلمانوں کے شیعہ سنی مقلد اور غیر مقلد میدانوں میں جا کر اپنے اپنے طریقہ مذہب میں دُعائیں کریں اور ایک ہی تاریخ میں اکٹھے ہو کر نماز پڑھیں تو بس یہ ایسا نسخہ ہے کہ معاً اس سے طاعون دُور ہو جائے گی مگر ا کٹھے کیونکر ہوں اس کی کوئی تدبیر نہیں بتلائی گئی۔ ظاہر ہے کہ فرقہ وہابیہ کے مذہب کے رُو سے تو بغیر فاتحہ خوانی کے نماز درست ہی نہیں پس اس صورت میں اُن کے ساتھ حنفیوں کی نماز کیونکر ہو سکتی ہے۔ کیا با ہم فساد نہیں ہوگا ۔ ماسوا اس کے اس اشتہار کے لکھنے والے نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ ہندو اس مرض کے دفع کے لئے کیا کریں۔ کیا اُن کو اجازت ہے یا نہیں کہ وہ بھی اس وقت اپنے بتوں سے مدد مانگیں ۔ اور عیسائی کس طریق کو اختیار کریں۔ اور جو فرقے حضرت حسین یا علی رضی اللہ عنہ کو قاضی الحاجات سمجھتے ہیں اور محرم میں تعزیوں پر ہزاروں درخواستیں مرادوں کے لئے گزارا کرتے ہیں اور یا جو مسلمان سید عبدالقادر جیلانی کی پوجا کرتے ہیں یا جو شاہ مدار یا سخی سرور کو پوجتے ہیں وہ کیا کریں اور کیا اب یہ تمام فرقے دُعائیں نہیں کرتے بلکہ ہر ایک فرقہ خوفزدہ ہو کر اپنے اپنے معبود کو پکار رہا ہے۔ شیعوں کے محلوں کی سیر کرو کوئی ایسا گھر نہیں ہوگا جس کے دروازہ پر یہ شعر چسپاں نہیں ہوگا:۔ لِي خَمْسَةٌ أُطْفِي بِهَا حَرَّ الْوَبَاءِ الحَاطِمَه الْمُصْطَفَى وَالْمُرْتَضَى وَ ابْنَاهُمَا وَالْفَاطِمَه میرے اُستاد ایک بزرگ شیعہ تھے ۔ اُن کا مقولہ تھا کہ وہاء کا علاج فقط تولا اور تبڑی ہے۔ ) حاشیہ یہ حرم کا مہینہ بڑا مبارک مہینہ ہے۔ ترمذی میں اس کی فضیلت کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث لکھی ہے کہ فیہ یوم تاب الله فيه على قوم ويتوب فيه على قوم اخرین یعنی محرم میں ایک ایسا دن ہے جس میں خدا نے گزشتہ زمانہ میں ایک قوم کو بلا سے نجات دی تھی اور مقدر ہے کہ ایساہی اسی مہینہ میں ایک بلا سے ایک اور قوم کو نجات ملے گی۔ کیا تعجب کہ اس بلا سے طاعون مراد ہو اور خدا کے مامور کی اطاعت کر کے وہ بلا ملک سے جاتی رہے۔ منہ