دافع البَلاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 222 of 822

دافع البَلاء — Page 222

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۱۸ دافع البلاء تنبيه جس پیغام کو ہم اس وقت اپنے عزیزانِ ملک کے پاس اس رسالہ کے ذریعہ سے پہنچانا چاہتے ہیں اُس کی نسبت ہمیں انبیاء علیہم السلام کے قدیم تجربہ کے رُو سے یہ ثابت ہے کہ سر دست اس ہماری ہمدردی کا قدر یہی ہوگا کہ پھر دوبارہ ہم اسلام کے مولویوں اور عیسائی مذہب کے پادریوں اور ہندو مذہب کے پنڈتوں سے گالیاں سنیں اور طرح طرح کے رنج وہ خطابوں سے یاد کئے جاویں اور ہمیں پہلے سے خوب معلوم ہے کہ ایسا ہی ہوگا۔ لیکن ہم نے نوع انسان کی ہمدردی کو اس بات سے مقدم رکھا ہے۔ کہ عام بد زبانی سے ہم ستائے جائیں کیونکہ باوجود اس کے یہ بھی احتمال ہے کہ ان صد ہا اور ہزار ہا گالیاں دینے والوں میں سے بعض ایسے بھی پیدا ہو جائیں کہ ایسے وقت میں کہ جب آسمان پر سے ایک آگ برس رہی ہے بلکہ اگلے جاڑے میں تو اور بھی زیادہ بر سنے کی توقع ہے۔ اس رسالہ کو غور سے پڑھیں اور اس اپنے ناصح شفیق پر جلد ناراض نہ ہوں۔ اور جس نسخہ کو وہ پیش کرتا ہے اُس کو آزما لیں ۔ کیونکہ اس ہمدردی کے صلہ میں کوئی اُجرت یا پاداش اُن سے طلب نہیں کی گئی۔ محض بچے خلوص اور نیک نیتی سے انسانوں کی جان چھوڑانے کے لئے ایک آزمودہ اور پاک تجویز پیش کی گئی ہے۔ پس جس حالت میں لوگ بیماریوں میں علاج کی غرض سے بعض جانوروں کا پیشاب بھی پی لیتے ہیں اور بہت سی پلید چیزوں کو استعمال کر لیتے ہیں۔ تو اس صورت میں اُن کا کیا حرج ہے کہ اپنی جان چھوڑانے کے لئے اس پاک علاج کو اپنے لئے اختیار کرلیں اور اگر وہ نہیں کریں گے تب بھی بہر حال اس مقابلہ کے وقت میں ایک دن اُن کو معلوم ہو گا کہ ان تمام مذاہب میں سے کون سا ایسا مذہب ہے جس کا شفاعت کرنا اور منجی کے بزرگ لفظ کا مصداق ہونا ثابت ہوسکتا ہے۔