چشمۂ مسیحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 394 of 597

چشمۂ مسیحی — Page 394

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۹۰ چشمه مسیحی طریق نجات کا پیش کیا ہے اُس کی فلاسفی یہ ہے کہ انسان کی فطرت میں قدیم سے ایک طرف تو ایک زہر رکھا گیا ہے جو گناہوں کی طرف رغبت دیتا ہے اور دوسری طرف قدیم سے انسانی فطرت میں اس زہر کا تریاق رکھا ہے جو خدا تعالیٰ کی محبت ہے۔ جب سے انسان بنا ہے یہ دونوں قو تیں اس کے ساتھ چلی آئی ہیں ۔ زہر ناک قوت انسان کے لئے عذاب کا سامان طیار کرتی ہے۔ اور پھر تریاقی قوت جو محبت الہی کی قوت ہے وہ گناہ کو یوں جلا دیتی ہے جیسے کہ خس و خاشاک کو آگ جلا دیتی ہے۔ یہ ہرگز نہیں کہ گناہ کی قوت جو عذاب کا سامان تھی وہ تو قدیم سے انسان کی فطرت میں رکھ دی گئی ہے لیکن گنا ہوں سے نجات پانے کے لئے جو سامان ہے وہ کچھ تھوڑی مدت سے پیدا ہوا ہے یعنی صرف اس وقت سے جبکہ یسوع مسیح نے صلیب پائی ۔ ایسا اعتقاد وہی قبول کرے گا جو اپنے دماغ میں ایک ذرہ عقلِ سلیم نہیں رکھتا بلکہ یہ دونوں سامان قدیم سے اور جب سے کہ انسان پیدا ہوا انسانی فطرت کو دیئے گئے ہیں ۔ یہ نہیں کہ گناہ کے سامان تو پہلے سے خدا تعالیٰ نے انسانی فطرت میں رکھ دیئے مگر نجات دینے کی دوا ابتدائی ایام میں اس کو یاد نہ آئی ، چار ہزار برس بعد سو جبھی ۔ اب ہم اس مضمون کو ختم کرتے ہیں اور محض اللہ آپ کو صلاح دیتے ہیں کہ اگر آپ زندہ برکات کے خواہاں ہیں تو اس مسیح کا نام نہ لو جو مدت ہوئی کہ فوت ہو چکا اور ایک ذرہ اُس کی زندہ برکات موجود نہیں اور اس کی قوم بجائے محبت الہی کی مستی کے شراب کی مستی میں سب سے زیادہ سبقت لے گئی ہے اور بجائے اس کے کہ آسمانی مال لیں دنیا کے مال پر فریفتہ ہیں اگر چہ قمار بازی سے ہی لیا جائے بلکہ چاہیے کہ