چشمۂ مسیحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 384 of 597

چشمۂ مسیحی — Page 384

روحانی خزائن جلد ۲۰ چشمه مسیحی کہ ہر ایک لغزش اور قصور جو بوجہ ضعف بشریت انسان سے صادر ہو سکتی ہے اس امکانی کمزوری کو دور کرنے کے لئے خدا سے مدد مانگی جائے تا خدا کے فضل سے وہ کمزوری ظہور میں نہ آوے اور مستور ومخفی رہے۔ پھر بعد اس کے استغفار کے معنے عام لوگوں کے لئے وسیع کئے گئے اور یہ امر بھی استغفار میں داخل ہوا کہ جو کچھ لغزش اور قصور صادر ہو چکا خدا تعالیٰ اس کے بد نتائج اور زہریلی تا شیروں سے دنیا اور آخرت میں محفوظ رکھے۔ پس نجات حقیقی کا سر چشمہ محبت ذاتی خدائے عزوجل کی ہے جو بجز و نیاز اور دائمی استغفار کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کی محبت کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور جب انسان کمال درجہ تک اپنی محبت کو پہنچاتا ہے اور محبت کی آگ سے اپنے جذبات نفسانیت کو جلا دیتا ہے تب یک دفعہ ایک شعلہ کی طرح خدا تعالیٰ کی محبت جو خدا تعالیٰ اس سے کرتا ہے اس کے دل پر گرتی ہے اور اس کو سفلی زندگی کے گندوں سے باہر لے آتی ہے اور خدائے حتی وقیوم کی پاکیزگی کا رنگ اس کے نفس پر چڑھ جاتا ہے بلکہ تمام صفات الہیہ سے ظلمی طور پر اس کو حصہ ملتا ہے ۔ تب وہ تجلیات الہیہ کا مظہر ہو جاتا ہے اور جو کچھ ربوبیت کے ازلی خزانہ میں مکتوم و مستور ہے اس کے ذریعہ سے وہ اسرار دنیا میں ظاہر ہوتے ہیں ۔ چونکہ وہ خدا جس نے اس دنیا کو پیدا کیا ہے بخیل نہیں ہے بلکہ اس کے فیوض دائمی ہیں اور اس کے اسماء اور صفات کبھی معطل نہیں ہو سکتے اس لئے وہ بشرط تقویٰ اور مجاہدہ جو کچھ اولین کو دیا ہے وہ آخرین کو بھی دیتا ہے جیسا کہ خود اُس نے قرآن شریف میں یہ دعا سکھلائی ہے اهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ یعنی اے ہمارے خدا! ہمیں وہ سیدھی راہ دکھلا جو اُن لوگوں کی راہ ہے جن پر تیرا فضل اور انعام ہوا۔ اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ وہی فضل اور انعام جو تمام نبیوں اور صدیقوں پر پہلے ہو چکا ہے وہ ہم پر بھی کر اور کسی فضل سے ہمیں محروم نہ رکھ ۔ یہ آیت اس اُمت کو اس قدر عظیم الشان امید دلاتی ہے جس میں گذشتہ اُمتیں شریک نہیں ہیں کیونکہ تمام انبیاء کے متفرق کمالات تھے۔ اور متفرق طور پر اُن پر فضل اور انعام ہوا۔ اب اس امت کو یہ دعا الفاتحة : ٧،٦