چشمۂ مسیحی — Page 368
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۶۴ چشمه مسیحی (۲) فرماتا ہے جیسا کہ اس کا یہ قول ہے الستُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلی یعنی میں نے روحوں سے سوال کیا کہ کیا میں تمہارا پیدا کنندہ نہیں ہوں تو روحوں نے جواب دیا کہ کیوں نہیں ۔ اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ انسانی روح کی فطرت میں یہ شہادت موجود ہے کہ اس کا خدا پیدا کنندہ ہے پس روح کو اپنے پیدا کنندہ سے طبعا و فطرتاً محبت ہے اس لئے کہ وہ اسی کی پیدائش ہے اور اسی کی طرف اس دوسری آیت میں اشارہ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لے یعنی روح کا خدائے واحد لاشریک کا طلب گار ہونا اور بغیر خدا کے وصال کے کسی چیز سے سچی خوشحالی نہ پانا یہ انسانی فطرت میں داخل ہے یعنی خدا نے اس خواہش کو انسانی روح میں پیدا کر رکھا ہے جو انسانی روح کسی چیز سے تسلی اور سکینت بجز وصال الہی کے نہیں پاسکتی ۔ پس اگر انسانی روح میں یہ خواہش موجود ہے تو ضرور ماننا پڑتا ہے کہ روح خدا کی پیدا کردہ ہے جس نے اس میں یہ خواہش ڈال دی مگر یہ خواہش تو درحقیقت انسانی روح میں موجود ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ انسانی روح در حقیقت خدا کی پیدا کردہ ہے۔ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جس قدر دو چیزوں میں کوئی ذاتی تعلق درمیان ہو اسی قدر ان میں اس تعلق کی وجہ سے محبت بھی پیدا ہو جاتی ہے جیسا کہ ماں کو اپنے بچہ سے محبت ہوتی ہے اور بچہ کو اپنی ماں سے کیونکہ وہ اس کے خون سے پیدا ہوا ہے اور اس کے رحم میں پرورش پائی ہے۔ پس اگر روحوں کو خدا تعالیٰ کے ساتھ کوئی تعلق پیدائش کا درمیان نہیں اور وہ قدیم سے خود بخود ہیں تو عقل قبول نہیں کر سکتی کہ اُن کی فطرت میں خدا تعالیٰ کی محبت ہو اور جب ان کی فطرت میں پر میشر کی محبت نہیں تو وہ کسی طرح نجات پا ہی نہیں سکتیں ۔ اصل حقیقت اور اصل سرچشمہ نجات کا محبت ذاتی ہے جو وصال الہی تک پہنچاتی ہے ۔ وجہ یہ کہ کوئی محب اپنے محبوب سے جدا نہیں رہ سکتا ۔ اور چونکہ خدا خودنور ہے اس لئے اس کی محبت سے نور نجات پیدا ہو جاتا ہے اور وہ محبت جو الاعراف :۱۷۳ الروم : ٣١