چشمۂ مسیحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 346 of 597

چشمۂ مسیحی — Page 346

۳۴۲ چشمه مسیحی روحانی خزائن جلد ۲۰ اس طرح پر نادان لوگوں کو دھوکہ میں ڈالتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ اس زمانہ کے نوشتوں کا جعلی یا اصلی ثابت کرنا بجز خدا کی وحی کے اور کسی کا کام نہ تھا۔ پس خدا کی وحی کا جس کسی قصہ سے توارد ہوا وہ سچا ہے گو بعض نادان انسان اس کو جھوٹا قصہ قرار دیتے ہوں اور جس واقعہ کی خدا کی وحی نے تکذیب کی وہ جھوٹا ہے اگر چہ بعض انسان اس کو سچا قرار دیتے ہوں اور قرآن شریف کی نسبت یہ گمان کرنا کہ ان مشہور قصوں یا افسانوں یا کتبوں یا انا جیل سے بنایا گیا ہے نہایت قابل شرم جہالت ہے۔ کیا ممکن نہیں کہ خدا کی کتاب کا کسی گذشتہ مضمون سے توارد ہو جائے ۔ چنانچہ ہندوؤں کے وید جو اس زمانہ میں مخفی تھے اُن کی کئی سچائیاں قرآن شریف میں پائی جاتی ہیں۔ پس کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دید بھی پڑھا تھا۔ انا جیل وغیرہ کا ذخیرہ جو چھا پہ خانہ کے ذریعہ سے اب ملا ہے عرب میں ان کو کوئی جانتا بھی نہیں تھا اور عرب کے لوگ محض امی تھے۔ اور اگر اس ملک میں شاذ و نادر کے طور پر کوئی عیسائی بھی تھا وہ بھی اپنے مذہب کی کوئی وسیع واقفیت نہیں رکھتا تھا تو پھر یہ الزام کہ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سرقہ کے طور پر ان کتابوں سے وہ مضمون لئے تھے ایک لعنتی خیال ہے۔ آنحضرت محض اُمی تھے ۔ آپ عربی بھی نہیں پڑھ سکتے تھے چہ جائیکہ یونانی یا عبرانی۔ یہ بار ثبوت ہمارے مخالفوں کے ذمہ ہے کہ اس زمانہ کی کوئی پرانی کتاب پیش کریں جس سے مطالب اخذ کئے گئے ۔ اگر فرض محال کے طور پر قرآن شریف میں سرقہ کے ذریعہ سے کوئی مضمون ہوتا تو عرب کے عیسائی لوگ جو اسلام کے سخت دشمن تھے فی الفور شور مچاتے کہ ہم سے سن کر ایسا مضمون لکھا ہے۔ یادر ہے کہ دنیا میں صرف قرآن شریف ہی ایک ایسی کتاب ہے جس کی طرف سے پادری فنڈل صاحب نے اپنی کتاب میزان الحق میں اس بات کو قبول کر لیا ہے کہ عرب کے عیسائی بھی وحشیوں کی طرح تھے اور بے خبر تھے ۔ منہ قرآن شریف نے تو اپنی نسبت معجزہ اور بے مثل ہونے کا دعوی کر کے اپنی بر بیت اس طرح پر ثابت کر دی