چشمۂ مسیحی — Page 345
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۴۱ چشمه سیحی اس خیال کی بنا ہے چونکہ مروجہ انجیلوں اور دوسری انجیلوں میں بہت تناقض ہے اس لئے اپنے گھر میں ہی یہ فیصلہ کر لیا ہے اور متقین کی یہی رائے ہے کہ کچھ نہیں کہہ سکتے کہ یہ انجیلیں جعلی ہیں یا وہ جعلی ہیں۔ اسی لئے شاہ ایڈورڈ قیصر کے تخت نشینی کی تقریب پر لنڈن کے پادریوں نے وہ تمام کتا بیں جن کو یہ لوگ جعلی تصور کرتے ہیں ان چارانجیلوں کے ساتھ ایک ہی جلد میں مجلد کر کے مبارکبادی کے طور پر بطور نذر پیش کی تھیں اور اس مجموعہ کی ایک جلد ہمارے پاس بھی ہے۔ پس غور کا مقام ہے کہ اگر در حقیقت وہ کتا ہیں گندی اور جعلی اور ناپاک ہوتیں تو پھر پاک اور ناپاک دونوں کو ایک جلد میں مجلد کرنا کس قدر گناہ کی بات تھی ۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ دلی اطمینان سے نہ کسی کتاب کو جعلی کہہ سکتے ہیں نہ اصلی ٹھہر سکتے ہیں۔ اپنی اپنی رائیں ہیں۔ اور سخت تعصب کی وجہ سے وہ انجیلیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اُن کو یہ لوگ جعلی قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ برنباس کی انجیل جس میں نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت پیشگوئی ہے وہ اسی وجہ سے جعلی قرار دی گئی ہے کہ اُس میں کھلے کھلے طور پر آنحضرت کی پیشگوئی موجود ہے۔ چنانچہ سیل صاحب نے اپنی تفسیر میں اس قصہ کو بھی لکھا ہے کہ ایک عیسائی راہب اسی انجیل کو دیکھ کر مسلمان ہو گیا تھا۔ غرض یہ بات خوب یاد رکھنی چاہیے کہ یہ لوگ جس کتاب کی نسبت کہتے ہیں کہ یہ جعلی ہے یا جھوٹا قصہ ہے۔ ایسی باتیں صرف دو خیال سے ہوتی ہیں (۱) ایک یہ کہ وہ قصہ یا وہ کتاب انا جیل مروجہ کے مخالف ہوتی ہے (۲) دوسرے یہ کہ وہ قصہ یا وہ کتاب قرآن شریف سے کسی قدر مطابق ہوتی ہے اور بعض شریر اور سیاہ دل انسان ایسی کوشش کرتے ہیں کہ اول اصول * مسلمہ کے طور پر یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ یہ جعلی کتابیں ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ قرآن میں ان کا قصہ درج ہے۔ اور عیسائی مذہب میں دین کی حمایت کے لئے ہر ایک قسم کا افترا کرنا اور جھوٹ جائز بلکہ موجب ثواب ہے ۔ دیکھو پولوس کا قول۔ منہ