چشمۂ مسیحی — Page 344
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۴۰ چشمه مسیحی ہم نے دلائل سے ثابت کیا ہے۔ اس صورت میں ایسے معترضین کو اور بھی حق پیدا ہوتا ہے کہ وہ ایسا خیال کریں کہ انا جیل موجودہ در حقیقت بدھ مذہب کا ایک خاکہ ہے ۔ یہ شہادتیں اس قدر گزر چکی ہیں کہ اب مخفی نہیں ہوسکتیں۔ ایک اور امر تعجب انگیز ہے کہ یوز آسف کی قدیم کتاب (جس کی نسبت اکثر محقق انگریزوں کے بھی یہ خیالات ہیں کہ وہ حضرت عیسی کی پیدائش سے بھی پہلے شائع ہو چکی ہے) جس کے ترجمے تمام ممالک یورپ میں ہو چکے ہیں انجیل کو اس کے اکثر مقامات سے ایسا توارد ہے کہ بہت سی عبارتیں باہم ملتی ہیں اور جو انجیلوں میں بعض مثالیں موجود ہیں وہی مثالیں انہیں الفاظ کے ساتھ اس کتاب میں بھی موجود ہیں۔ اگر ایک شخص ایسا جاہل ہو کہ گویا اندھا ہو وہ بھی اس کتاب کو دیکھ کر یقین کرے گا کہ انجیل اُسی میں سے چورائی گئی ہے۔ بعض لوگوں کی یہ رائے ہے کہ یہ کتاب گوتم بدھ کی ہے اور اول سنسکرت میں تھی اور پھر دوسری زبانوں میں ترجمے ہوئے۔ چنانچہ بعض محقق انگریز بھی اس بات کے قائل ہیں۔ مگر اس بات کے ماننے سے انجیل کا کچھ باقی نہیں رہتا اور نعوذ باللہ حضرت عیسی" اپنی تمام تعلیم میں چور ثابت ہوتے ہیں۔ کتاب موجود ہے۔ جو چاہے دیکھ لے مگر ہماری رائے تو یہ ہے کہ خود حضرت عیسی کی یہ انجیل ہے جو ہندوستان کے سفر میں لکھی گئی اور ہم نے بہت سے دلائل سے اس بات کو ثابت بھی کر دیا ہے کہ یہ در حقیقت حضرت عیسی کی انجیل ہے اور دوسری انجیلوں سے زیادہ پاک وصاف ہے مگر وہ بعض محقق انگریز جو اس کتاب (۵) کو بدھ کی کتاب ٹھہراتے ہیں وہ اپنے پاؤں پر آپ تبر مارتے ہیں اور حضرت عیسی علیہ السلام کو سارق قرار دیتے ہیں۔ اب یہ بھی یادر ہے کہ پادریوں کا مذہبی کتابوں کا ذخیرہ ایک ایسارڈی ذخیرہ ہے جو نہایت قابل شرم ہے ۔ وہ لوگ صرف اپنی ہی اٹکل سے بعض کتابوں کو آسمانی ٹھہراتے ہیں اور بعض کو جعلی قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ ان کے نزدیک یہ چار انجیلیں اصلی ہیں اور باقی انا جیل جو چھپن کے قریب ہیں جعلی ہیں مگر محض گمان اور شک کے رو سے ۔ نہ کسی مستحکم دلیل پر