چشمہٴ معرفت — Page 75
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۷۵ چشمه معرفت جوان کو ایک قوم کہا جائے اِس لئے اُن کے لئے صرف ایک کتاب کافی تھی پھر بعد اس کے ۶۷ جب دنیا میں انسان پھیل گئے اور ہر ایک حصہ زمین کے باشندوں کا ایک قوم بن گئی اور بباعث دور دراز مسافتوں کے ایک قوم دوسری قوم کے حالات سے بالکل بے خبر ہو گئی ایسے زمانوں میں خدا تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت نے تقاضا فرمایا کہ ہر ایک قوم کے لئے جدا جدا رسول اور الہامی کتابیں دی جائیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور پھر جب نوع انسان نے دنیا کی آبادی میں ترقی کی اور ملاقات کے لئے راہ کھل گئی اور ایک ملک کے لوگوں کو دوسرے ملک کے لوگوں کے ساتھ ملاقات کرنے کے لئے سامان میسر آگئے اور اس بات کا علم ہو گیا کہ فلاں فلاں حصہ زمین پر نوع انسان رہتے ہیں اور خدا تعالیٰ کا ارادہ ہوا کہ ان سب کو پھر دوبارہ ایک قوم کی طرح بنا دیا جائے اور بعد تفرقہ کے پھر ان کو جمع کیا جاوے ۔ تب خدا نے تمام ملکوں کے لئے ایک کتاب بھیجی اور اس کتاب میں حکم فرمایا کہ جس جس زمانہ میں یہ کتاب مختلف ممالک میں پہنچے اُن کا فرض ہوگا کہ اُن کو قبول کر لیں اور اُس پر ایمان لاویں اور وہ کتاب قرآن شریف ہے جو تمام ملکوں کا باہمی رشتہ قائم کرنے کے لئے آئی ہے۔ قرآن سے پہلی سب کتا بیں مختص القوم کہلاتی تھیں یعنی صرف ایک قوم کے لئے ہی آتی تھیں چنانچہ شامی، فارسی، ہندی، چینی، مصری، رومی یہ سب قو میں تھیں جن کے لئے جو کتابیں یا رسول آئے وہ صرف اپنی قوم تک حاشیہ: ایک قوم بنانے کا ذکر قرآن شریف کی سورہ کہف میں موجود ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَجَمَعْتُهُمْ جَمْعًا ، یعنی ہم آخری زمانہ میں ہر ایک قوم کو آزادی دیں گے تا اپنے مذہب کی خوبی دوسری قوم کے سامنے پیش کرے اور دوسری قوم کے مذہبی عقائد اور تعلیم پر حملہ کرے اور ایک مدت تک ایسا ہوتا رہے گا پھر قرنا میں ایک آواز پھونک دی جائے گی تب ہم تمام قوموں کو ایک قوم بنادیں گے اور ایک ہی مذہب پر جمع کر دیں گے۔ منہ ا الكهف : ١٠٠