چشمہٴ معرفت — Page 66
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۶۶ چشمه معرفت ۵۸ پیاس کے وقت پانی عطا کرتا ہے اور بھوک کے وقت طرح طرح کی غذا ئیں عنایت کرتا ہے اسی طرح خدا روحانی خواہشوں کا بھی پورا کرنے والا ہے اور وہ الہام ہے یہ کامل دلیل نہیں ہے اور اگر یہ کامل ہے تو تم جسمانی اور روحانی قانون قدرت ہمیں مطابق کر کے دکھلاؤ جن کے واقعات میں ایک ذرہ تفاوت نہ ہو۔ تم دیکھتے ہو کہ اس زمانہ میں تمہارے جسم کے لئے غذا اور پانی دونوں موجود ہیں یہ نہیں کہ فقط کسی پہلے زمانہ میں تھیں اور اب نہیں ہیں مگر جب الہام اور وحی کا ذکر آتا ہے تو پھر تم کسی ایسے پہلے زمانہ کا حوالہ دیتے ہو جس پر کروڑ ہا برس گزر چکے ہیں مگر موجود کچھ نہیں دکھلا سکتے ۔ پھر خدا کا جسمانی اور روحانی قانون قدرت با ہم مطابق کیوں کر ہوا۔ ذرا ٹھہر کر سو چو یونہی جلدی سے جواب مت دو۔ تم اس سے انکار نہیں کر سکتے کہ جسمانی خواہشوں کے سامان تو تمہارے ہاتھوں میں موجود ہیں مگر روحانی خواہشوں کے سامان تمہارے ہاتھوں میں موجود نہیں بلکہ صرف قصے تمہارے ہاتھوں میں ہیں جو بودے اور باسی ہو چکے ہیں۔ تم جانتے ہو کہ اس زمانہ تک تمہارے جسمانی چشمے بند نہیں ہوئے جن کا تم پانی پی کر پیاس کی جلن اور سوزش کو دور کرتے ہو اور نہ جسمانی کھیتوں کی زمین نا قابل زراعت ہوگئی ہے جن کے اناج سے تم دو وقت پیٹ بھرتے ہو مگر وہ روحانی چشمے اب کہاں ہیں جو الہام الہی کا تازہ پانی پلا کر پیاس کی سوزش کو دور کرتے تھے اور اب وہ روحانی اناج بھی تمہارے پاس نہیں ہے جس کو کھا کر تمہاری روح زندہ رہ سکتی تھی۔ اب تم گویا ایک جنگل میں ہو جس میں نہ اناج ہے نہ پانی ہے۔ تم سوچ کر دیکھ لو کہ کیا صرف اناج کے نام سے تمہارا پیٹ بھر سکتا ہے یا صرف پانی کے خیال سے تمہاری پیاس کی سوزش دور ہو سکتی ہے ہم نے قبول کیا کہ تمہارے رشی روحانی اناج کھاتے تھے اور روحانی پانی پیتے تھے مگر تم تو اس سے محروم ہو اور اب تو تمہاری وہ مثال ہے کہ کسی نے کسی شخص سے پوچھا تھا کہ کیا تو نے کبھی کنک کی روٹی کھائی ہے تو اُس نے جواب دیا کہ میں نے تو کبھی نہیں کھائی مگر میرے دادا صاحب بات کیا کرتے تھے کہ انہوں نے ایک