چشمہٴ معرفت — Page 65
روحانی خزائن جلد ۲۳ چشمه معرفت اس کی خواہشوں کا سامان دیا ایسا ہی روح کو بھی اُس کی خواہشوں کا سامان دیا تا جسمانی اور (۵۷) روحانی نظام دونوں یا ہم مطابق ہوں۔ جن کو روحانی حس دی گئی ہے وہ اس بات کو محسوس کرتے ہیں کہ روح اپنی تکمیل کے لئے ایک روحانی غذا اور پانی کی محتاج ہے جس سے روحانی زندگی قائم رہ سکتی ہے۔ روحانی زندگی کیا چیز ہے؟ وہ اپنے محبوب حقیقی کی محبت اور اُس سے قطع تعلق ہو جانے کا خوف ہے اور محبت سے مراد وہ حالت ہے کہ بکلی دل اُسی کی طرف کھینچا جائے اور اُس کے مقابل پر کوئی دوسرا باقی نہ رہے۔ اور روحانی خوف سے یہ مراد ہے کہ قطع تعلق کے اندیشہ سے گناہ کا مادہ جل جائے اور روح میں ایک پاک تبدیلی پیدا ہو جائے اور دنیا میں کوئی ایسی انسانی روح نہیں جو روحانی زندگی کی طالب نہیں۔ ہاں جو لوگ محض دنیا کے کیڑے ہیں ان کی رُوح کی بصارت قریبا مردار پڑ جاتی ہے اور وہ خدا سے قطع تعلق کر لیتے ہیں اور خدا سے نہیں ڈرتے اور صرف دنیا کو اپنی اصلی غرض سمجھنے لگتے ہیں مگر تا ہم کسی خوفناک نظارہ کے وقت جیسا کہ سخت زلزلہ یا کسی خطرناک بیماری کی وجہ سے ایک بجلی کی طرح اُس مالک حقیقی کی ہیبت کی چمک اُن کے سامنے بھی آجاتی ہے اور پھر غافل ہو جاتے ہیں مگر یا در ہے کہ فقط یہ کہنا کہ جس خدا نے جسم کی حاجتوں کے موافق اس کو سامان دئے ہیں ایسا ہی روح کو اس کی حاجتوں کے موافق سامان دیئے ہوں گے جیسا کہ مضمون پڑھنے والے آریہ نے بیان کیا یہ وجود الہام پر کامل دلیل نہیں ہے کیونکہ مخالف کہہ سکتا ہے کہ ممکن ہے کہ انسان کو ایک چیز کی ضرورت تو ہو مگر وہ چیز اُس کو حاصل نہ ہو ۔ پس سچ تو یہ ہے کہ یہ دلیل جو لمی ہے پوری نہیں ہوسکتی جب تک اس کے ساتھ انھی دلیل نہ ہو یعنی جب تک تازہ نمونہ الہام کا نہ دیکھا جائے بلاشبہ ضرورت کا محسوس کرنا اور چیز ہے اور پھر اس ضرورت کو حاصل بھی کر لینا یہ اور امر ہے پس آریوں کے مضمون پڑھنے والے نے جو ضرورت الہام کے لئے صرف یہ چند فقرے بیان کئے کہ جس طرح خدا انسان کی جسمانی خواہشوں کو پورا کرتا ہے مثلاً