چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 64 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 64

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۶۴ چشمه معرفت (۵۶) ہیں کہ دلیل سے مدلول کا پتہ لگا لیں جیسا کہ ہم نے ایک جگہ دھواں دیکھا تو اس سے ہم نے آگ کا پتہ لگا لیا اور دوسری دلیل کی قسم انسی ہے اور اِنسی اُس کو کہتے ہیں کہ مدلول سے ہم دلیل کی طرف انتقال کریں جیسا کہ ہم نے ایک شخص کو شدید پ میں مبتلا پایا تو ہمیں یقین ہوا کہ اس میں ایک تیز صفرا موجود ہے جس سے تپ چڑھ گیا ۔ سو اس جگہ ہم انشاء اللہ تعالیٰ دونوں قسم کی دلیلیں پیش کریں گے۔ سو پہلے ہم لِمّی دلیل ضرورت الہام کے لئے پیش کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ اس میں کچھ شک نہیں کہ انسان کے جسم کا جسمانی اور رُوحانی نظام ایک ہی قانون قدرت کے ماتحت ہے پس اگر ہم انسان کے جسمانی حالات پر نظر ڈال کر دیکھیں تو ظاہر ہوگا کہ خداوند کریم نے جس قدر انسان کے جسم کو خواہشیں لگادی ہیں ان کے پورا کرنے کے لئے بھی سامان مہیا کئے ہیں چنانچہ انسان کا جسم باعث بھوک کے اناج کا محتاج تھا سو اس کے لئے طرح طرح کی غذا ئیں پیدا کی ہیں۔ ایسا ہی انسان باعث پیاس کے پانی کا محتاج تھا سو اس کے لئے کو ئیں اور چشمے اور نہریں پیدا کر دیئے ہیں۔ اسی طرح انسان اپنی بصارت سے کام لینے کے لئے آفتاب یا کسی اور روشنی کا محتاج تھا سو اس کے لئے خدا نے آسمان پر سورج اور زمین پر دوسری اقسام کی روشنی پیدا کر دی ہے۔ اور انسان اس ضرورت کے لئے کہ سانس لے اور نیز اس ضرورت کے لئے کہ کسی دوسرے کی آواز کو سن سکے ہوا کا محتاج تھا۔ سو اس کے لئے خدا نے ہوا پیدا کر دی ہے۔ ایسا ہی انسان بقائے نسل کے لئے اپنے جوڑے کا محتاج تھا سو خدا نے مرد کے لئے عورت اور عورت کے لئے مرد پیدا کر دیا ہے غرض خدا تعالیٰ نے جو جو خواہشیں انسانی جسم کو لگا دی ہیں اُن کے لئے تمام سامان بھی پیدا کر دیا ہے۔ پس اب سوچنا چاہیے کہ جب کہ انسانی جسم کو باوجود اس کے فانی ہونے کے تمام اس کی خواہشوں کا سامان دیا گیا ہے تو انسان کی روح کو جو دائگی اور ابدی محبت اور معرفت اور عبادت کے لئے پیدا کی گئی ہے کس قدر اس کی پاک خواہشوں کے سامان دیئے گئے ہوں گے۔ سو وہی سامان خدا کی وحی ہے اور اُس کے تازہ نشان ہیں جو ناقص العلم انسان کو یقین تام تک پہنچاتے ہیں۔ خدا نے جیسا کہ جسم کو