چشمہٴ معرفت — Page 63
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۶۳ چشمه معرفت ایسے حجرہ کی کھڑ کی کھول دی جس کو اُس نے بند کر دیا تھا تو معاً خدا تعالیٰ اُس گھر میں روشنی ۵۵﴾ داخل کرے گا ۔ پس قرآن شریف کی رو سے خدا کے غضب کے یہ معنی نہیں ہیں کہ وہ انسان کی طرح اپنی حالت میں ایک مکروہ تغیر پیدا کر کے خشم ناک ہو جاتا ہے کیونکہ انسان تو غضب کے وقت میں ایک رنج میں پڑ جاتا ہے اور اپنی حالت میں ایک دکھ محسوس کرتا ہے اور اس کا سرور جاتا رہتا ہے مگر خدا ہمیشہ سرور میں ہے اُس کی ذات پر کوئی رنج نہیں ہوتا بلکہ اس کے غضب کے یہ معنی ہیں کہ وہ چونکہ پاک اور قدوس ہے اس لئے نہیں چاہتا کہ لوگ اس کے بندے ہو کر ناپاکی کی راہیں اختیار کریں اور تقاضا فرماتا ہے کہ ناپا کی کو درمیان سے اُٹھا دیا جاوے پس پرام جو شخص ناپا کی پر اصرار کرتا ہے آخر کا روہ خدائے قدوس اپنے فہ اپنے فیض کو جو مدار حیات اور راحت اور آرام ہے اس سے منقطع کر لیتا ہے اور یہی حالت اُس نافرمان کے لئے موجب عذاب ہو جاتی ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے ایک باغ ہے جو ایک نہر کے پانی سے سرسبز اور شاداب ہوتا تھا اور جب باغ والوں نے نہر کے مالک کی اطاعت چھوڑ دی تو مالک نہر نے اس باغ کو اپنے نہر کے پانی سے محروم کر دیا اور بند لگا دیا تب باغ خشک ہو گیا ۔ اب واضح ہو کہ ضرورت الہام کو بیان کرنا اُس قوم کا کام نہیں ہے جو الہام کو کسی گذشتہ زمانہ تک محدود سمجھ بیٹھی ہے کیونکہ جو چیز واقعی طور پر ضروری ہے اُس کی ہمیشہ اور ہر وقت ہمیں ضرورت ہے۔ اور اگر کہیں کہ پہلے زمانوں میں الہام کی ضرورت تھی اور اب نہیں ہے تو گویا ہم خود ضرورت الہام کے منکر ہیں۔ مثلاً ہمیں زندگی کے لئے سانس لینے کی ضرورت ہے پس نہیں کہہ سکتے کہ کل وہ ضرورت تھی مگر آج نہیں ہے اور آج ہم کسی دوسرے کو سانس لیتے دیکھ کر جی سکیں گے بلکہ الہام ہی ایک ایسی چیز ہے کہ جو خدا کو نزدیک کر کے ہمیں دکھلا دیتا ہے اور ہمارا رشتہ خدا سے محکم کر دیتا ہے اور ہم جیسے پہلے آسمان سے آئے تھے الہام دوبارہ ہمیں آسمان کی طرف لے جاتا ہے۔ اب جاننا چاہیے کہ دلیل دو قسم کی ہوتی ہے ایک لمی اور لمّی دلیل اُس کو کہتے