چشمہٴ معرفت — Page 62
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۶۲ چشمه معرفت وید وڈیا کے نمونے یہ ہیں جو ہم نے بیان کئے ہیں۔ اور اگر کوئی آریہ صاحب اپنی خوش عقیدگی (۵۴) کی وجہ سے زیادہ کے مشتاق ہوں گے تو ہم اور بھی لکھیں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ آریوں کی حالت پر بڑا افسوس ہے کہ وہ محض اپنی نادانی اور تعصب کی وجہ سے قرآن شریف پر جو سر چشمہ معارف اور حقائق ہے اعتراض کرتے ہیں اور اپنے وید کی خبر نہیں لیتے کہ کس تاریکی میں پڑا ہوا ہے اور اس کی باتیں ایسی خلاف عقل اور بے ہودہ ہیں جو یقیناً اس سے بڑھ کر کسی قوم کی کتاب میں ایسی باتیں نہیں ہوں گی ۔ وید نے پر میشر کو سراسر غضب اور کینہ وری کا پتلا ٹھہرا دیا ہے جو کسی حالت میں سزا کے ارادہ کو نہیں چھوڑتا لیکن قرآن شریف نے خدا تعالیٰ کے غضب کو اس طور سے بیان نہیں کیا جو وید بیان کرتا ہے بلکہ وہ غضب ایک روحانی فلسفہ اپنے اندر رکھتا ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ سزا دہی کی کیفیت کے بارہ میں ایک جگہ قرآن شریف میں فرماتا ہے نَارُ اللهِ الْمُوْقَدَةُ الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْأَفْدَةِ یعنی دوزخ کیا چیز ہے دوزخ وہ آگ ہے جو دلوں پر بھڑکائی جاتی ہے یعنی انسان جب فاسد خیال اپنے دل میں پیدا کرتا ہے اور وہ ایسا خیال ہوتا ہے کہ جس کمال کے لئے انسان پیدا کیا گیا ہے وہ اس کے مخالف ہوتا ہے۔ تو جیسا کہ ایک بھوکا یا پیاسا بوجہ نہ ملنے غذا اور پانی کے آخر مر جاتا ہے۔ ایسا ہی وہ شخص بھی جو فساد میں مشغول رہا اور خدا تعالیٰ کی محبت اور اطاعت کی غذا اور پانی کو نہ پایا وہ بھی مرجاتا ہے۔ پس بموجب تعلیم قرآن شریف کے بندہ ہلاکت کا سامان اپنے لئے آپ تیار کرتا ہے خدا اُس پر کوئی جبر نہیں کرتا اس کی ایسی مثال ہے کہ جیسے کوئی اپنے حجرہ کے تمام دروازے بند کر دے اور روشنی داخل ہونے کے لئے کوئی کھڑ کی کھلی نہ رکھے تو اس میں شک نہیں کہ اس کے حجرہ کے اندراندھیرا ہو جائے گا۔ سو کھڑکیوں کا بند کرنا تو اُس شخص کا فعل ہے مگر اندھیرا کر دینا یہ خدا تعالیٰ کا فعل اُس کے قانون قدرت کے موافق ہے۔ پس اسی طرح جب کوئی شخص خرابی اور گناہ کا کام کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اپنے قانون قدرت کی رو سے اُس کے اس فعل کے بعد کوئی اپنا فعل ظاہر کر دیتا ہے جو اس کی سزا ہو جاتا ہے لیکن با ایں ہمہ تو بہ کا دروازہ بند نہیں کرتا مثلاً جب ایک شخص نے اپنے الهمزة : ۸،۷