چشمہٴ معرفت — Page 60
۵۲ روحانی خزائن جلد ۲۳ ۶۰ چشمه معرفت اور پھر جس وید نے یہ خیال اپنا ظاہر کیا کہ سطح زمین کے تمام حیوانات اور آسمان کی فضا اور زمین کے اندر کے جانور اور تمام بڑی بحری پرند چرند خزنداور پانی کے کیڑے جو سمندر اور دریاؤں کے ہر ایک قطرہ میں ہزار ہا ہیں یہ سب آدمی ہیں اس وید کو حق اور حکمت سے کیا تعلق ہے کیونکہ اگر یہ فرض کیا جائے کہ ان جانوروں کا کروڑم حصہ بھی کسی و مہ بھی کسی وقت آدمی بن کر اس زمین پر آباد ہو گا تب بھی ایسا فرض کرنا سراسر محال اور بالکل محال ہے بلکہ اگر زمین پر سے تمام سمندر اور تمام دریا اُٹھ جائیں اور تمام پہاڑ زمین سے ہموار ہو جاویں اور تمام زمین ایک صاف میدان آبادی کے لائق ہو جاوے تب بھی اگر کروڑم حصہ زمین کے جانداروں اور کیڑوں مکوڑوں کا انسان بن جائے اور ان کو زمین پر آباد کرنا چاہیں اور زمین بھی اندازہ موجودہ سے وہ چند سے زیادہ ہو جائے پھر بھی اُن جانداروں کی بصورت آدمی بن جانے کے زمین پر گنجائش نہیں ہو سکتی ۔ ہر ایک شخص جو ایک گروہ مہمانوں کا کسی گھر میں بلانا چاہتا ہے تو اوّل وہ دیکھ لیتا ہے کہ وہ گھر اُن کے لئے گنجائش بھی رکھتا ہے یا نہیں ۔ پس اگر پر میشر کا فی الحقیقت یہ ارادہ تھا کہ ان تمام جانداروں کو انسان بنا کر زمین پر آباد کرے تو اس ارادہ کے مطابق زمین کو اس قدر فراخ بنانا چاہیے تھا جس میں ان تمام انسانوں کی گنجائش ہو سکتی جو کیڑوں مکوڑوں کی جونوں سے انسان کے جون میں آنے والے تھے اور صاف ظاہر ہے کہ پرمیشر کا اس قدر چھوٹی زمین بنانا کہ جس میں ایک کوئیں کے کیڑے بھی اگر آدمی بنائے جائیں سما نہیں سکتے ۔ اُس کا یہ فعل اس کے اس ارادہ پر دلالت کر رہا ہے کہ اُس کا منشاء ہی نہیں کہ یہ تمام کیڑے مکوڑے آدمی بن جائیں ۔ ہاں اگر یہ کہو کہ پر میشر سے یہ غلطی ہوئی کہ وہ صحیح اندازہ زمین اور تمام جان داروں کا نہیں کر سکا تو ایسے جواب سے نہ وید نہ وید کا پرمیشر اور نہ وید کا مذہب قائم رہ سکتا ہے۔ ایک اور وید و ڈ یا کا نمونہ ہم پیش کرتے ہیں اور وہ یہ کہ جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے زمین کی آبادی صرف ایک ربع مسکون ہے جو نہایت قلیل