چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 58 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 58

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۵۸ چشمه معرفت ۵۰ جو اپنے گنہ کی وجہ سے کسی خاص جون کو چاہتا ہے وہی جون پر میشر اس کو دے دیتا ہے۔ پس اس صورت میں لازم آتا ہے کہ سطح زمین پر جس قدر پرند چرند ، درندخزند اور کیڑے مکوڑے ہیں اُسی قدر انسان کے گناہ بھی ہوں مگر وید نے کوئی اس قدر لمبی چوڑی فہرست گناہوں کی پیش نہیں کی اور عقل سلیم تو خود اس خیال کو سراسر لغو اور بیہودہ اور خلاف واقعہ مجھتی ہے۔ پس یہ وید ودیا کے نمونے ہیں جو ہم ظاہر کرتے جاتے ہیں۔ سب سے زیادہ افسوس کی جگہ یہ ہے کہ پر میشر با وجود مالک کہلانے کے کسی کا گناہ بخش نہیں سکتا اپنے زور بازو سے کوئی نجات پاوے تو پاوے ورنہ آریوں کو پر میشر کے فضل اور رحم سے ہاتھ دھو لینا چاہیے۔ ہم پر میشر کی اس خصلت سے جس قدر تعجب میں ہیں کسی دوسری خصلت سے ہمیں تعجب نہیں یعنی جب کہ وہ جانتا ہے کہ انسانی فطرت کمزور ہے اور انسانی فطرت اُسی کی ایک کل بنائی ہوئی ہے اور اس کل کے تمام پرزے پرچے اُسی کی طرف سے ہیں تو اس قدر سخت دلی اُس کے تقدس کے برخلاف کیوں ہے۔ اگر وہ ایسا کمزور تھا کہ نہ تو گناہ بخش سکے نہ روحوں کو پیدا کر سکے نہ جاودانی مکتی دے سکے تو کیوں اس نے یہ نازک کام خدائی کا اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ کیا ایسا پر میٹر جو نیک اخلاق سے کچھ بھی حصہ نہیں رکھتا اور بات بات میں اس کا غضب اور کینہ ظاہر ہے برداشت تو ذرہ نہیں پھر کیوں کر اُس کو کینہ اور غضب سے مبرا سمجھ سکتے ہیں کیا غضب کرنے والوں اور کینہ وروں کے سر پر سینگ ہوتے ہیں اور اگر وہ تو بہ کرنے والوں اور عجز و نیاز سے اس کی راہ میں گداز ہونے والوں اور آتش محبت میں بھسم ہونے والوں کے گنہ بخش نہیں سکتا اور خواہ انسان تضرع کرتا کرتا موت تک پہنچ جائے اس کا دل نرم ہی نہیں ہوتا اور بدلہ لینے سے باز نہیں آتا تو اگر اُس کو غضب کرنے والا اور کینہ ور نہیں کہیں گے تو اور کیا کہیں گے اور اگر وہ دائی مکتی با وجود قدرت کے اُن بندوں کو نہیں دے سکتا جن کا ایمان چند روزہ نہ تھا بلکہ ہمیشہ کے لئے تھا تو کیا اس کے حق میں یہ کہنا بے جا ہوگا کہ وہ حاسدوں کی طرح اپنے صادق پرستاروں کا آرام نہیں چاہتا کیا بار بار پاس کر کے پھر فیل کرنا اور عزت