چشمہٴ معرفت — Page 56
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۵۶ چشمه معرفت عہد کرے کہ پھر ایسا گناہ نہیں کرے گا مگر پھر بھی کیا ممکن کہ وہ گناہ جو خفیف سے خفیف ہے پر میشر چھوڑ دے اور چشم پوشی فرما دے اور اگر کروڑوں اور کئی ارب کے بعد مکتی بھی دے گا تو وہ بھی ایک زمانہ محدود تک ہوگی اور پھر بعد اس کے جونوں کے عذاب میں ڈال دے گا اور نہیں چاہے گا کہ اس کے بندے ہمیشہ کا آرام پاویں۔ شاید اس کا یہ سبب ہے کہ روحوں اور پر میشر میں خالق اور مخلوق کا تعلق نہیں۔ پر میشر قدیم سے الگ اور روحیں قدیم سے الگ ہیں لہذا پر میشر صرف ایک مجسٹریٹ کی حیثیت سے اُن سے معاملہ کرتا ہے نہ ماں باپ کی طرح اور یہ سچ ہے کہ رحم تعلق سے ہی پیدا ہوتا ہے۔ ایک ماں بوجہ اس تعلق کے جو اپنے بیٹے سے رکھتی ہے اور جانتی ہے کہ وہ بیٹا اس کے پیٹ سے نکلا ہے اور اس کی چھاتیوں کا دودھ پیا ہے اُس کے لئے ایک رحمت کا دریا ہوتی ہے پس جب کہ روحوں اور پر میشر میں خالق اور مخلوق کا تعلق ہی نہیں اور اس کے ہاتھ سے روح پیدا ہی نہیں ہوئی تو اس کی بلا سے اگر وہ ہمیشہ کے عذاب سے مریں تو بے شک مریں کون سا درمیان تعلق ہے جس کی وجہ سے اُس کا رحم جوش مارے؟ مگر قرآن شریف میں جو خدا نے یہ فرمایا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اے بندو مجھے سے نومیدمت ہو میں رحیم و کریم اور ستار و غفار ہوں اور سب سے زیادہ تم پر رحم کرنے والا ہوں اور اس طرح کوئی بھی تم پر رحم نہیں کرے گا جو میں کرتا ہوں ۔ اپنے ہالوں سے زیادہ میرے ساتھ محبت کرو کہ در حقیقت میں محبت میں اُن سے زیادہ ہوں اگر تم میری طرف آؤ تو میں سارے گناہ بخش دوں گا اور اگر تم تو بہ کرو تو میں قبول کروں گا۔ اور اگر تم میری طرف آہستہ قدم سے بھی آؤ تو میں دوڑ کر آؤں گا۔ جو شخص مجھے ڈھونڈے گا وہ مجھے پائے گا اور جو شخص میری طرف رجوع کرے گا وہ میرے دروازہ کو کھلا پائے گا میں تو بہ کرنے والے کے گنہ بخشتا ہوں خواہ پہاڑوں سے زیادہ گنہ ہوں میر ارحم تم پر بہت زیادہ ہے اور غضب کم ہے کیونکہ تم میری مخلوق ہو میں نے تمہیں پیدا کیا اس لئے میرا ر تم تم سب پر محیط ہے۔ یہ ہے خلاصہ قرآن شریف کی تعلیم کا۔ اور یاد رہے کہ درحقیقت رحم تعلق سے ہی پیدا