چشمہٴ معرفت — Page 52
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۵۲ چشمه معرفت تمام حقوق خدا تعالیٰ کے اس سے ادا ہو جاویں اور کسی پہلو سے ایک ذرہ قصور باقی نہ رہے اور اطاعت کی راہ میں ایک ذرہ بھی لغزش اس سے صادر نہ ہو تو یہ طریق نجات تعلیق بالمحال ہے نہ (۲۳) اس درجہ کی عہدہ بر آئی کسی کو حاصل ہوگی اور نہ وہ نجات پائے گا۔ پس ایسا حکم خدا کا حکم نہیں ہو سکتا جو محال سے وابستہ اور صریح قانون قدرت کے برخلاف اور صحیفۂ فطرت کے منافی ہے بھلا تم تمام مشرق و مغرب میں تلاش کر کے کوئی آدمی پیش تو کرو جو صغائر و کبائر اور کسی قسم کی غفلت سے بکلی پاک اور مبرا ہو اور جس نے تمام حقوق بندہ پروری ادا کر دیئے ہیں اور جس کا یہ دعوئی ہو کہ وہ تمام وقائق فرمانبرداری اور شکر گزاری کے بجالا چکا ہے اور جب اس زمانہ میں کوئی موجود نہیں تو یقیناً سمجھو کہ ایسا آدمی بھی دنیا میں ظہور پذیر نہیں ہوا اور نہ آئندہ اُس کے پیدا ہونے کی اُمید ہے اور جب کہ اپنے زور بازو سے تمام حقوق خدا تعالیٰ کے ادا کرنا اور ہر ایک نہج سے شکر گذاری کے طریقوں میں عہدہ برآ ہونا قانون قدرت اور صحیفہ فطرت کی رو سے غیر ممکن ہے اور خود تجربہ ہر ایک انسان کا اس پر گواہ ہے تو پھر مکتی کی بنا ایسے امر پر رکھنا کہ خود وہ محال اور ناشدنی ہے کسی ایسی کتاب کے شان کے مناسب نہیں ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو مگر ممکن ہے کہ جیسا کہ اور کئی باتوں میں وید میں خرابیاں پیدا ہو گئی ہیں یہ خرابی بھی کسی زمانہ میں پیدا ہو گئی ہو اور ممکن ہے کہ دراصل یہ وید کی تعلیم نہ ہو بلکہ محرف مبدل ہو۔ اور پھر با وجود متذکرہ بالا خرابی کے جو قانون قدرت اور صحیفہ فطرت کے مخالف آریوں کے مندرجہ بالا اصول میں پائی جاتی ہے۔ جب مکتی کی طرف دیکھا جائے تو وہ بھی اپنے اندر ایک نفرتی طریق مخفی رکھتی ہے جو خدائے کریم کے شان کے شایان نہیں اور وہ یہ کہ مکتی پانے والے انجام کا مکتی خانہ سے باہر نکالے جاتے ہیں پس کس طرح قبول کیا جائے کہ یہ طریق اُس خدا کا مقرر کردہ ہے جو سر چشمہ تمام رحمتوں کا ہے اور بخیل اور حاسد نہیں ہے خدا کی شان اس سے بلند تر ہے کہ وہ اپنے سچے پرستاروں کو ایک مرتبہ اپنے قرب اور محبت کی عزت دے کر پھر کتے ، بلے بناوے اور کیڑوں مکوڑوں کی جونوں میں ڈالے۔