چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 51 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 51

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۵۱ چشمه معرفت ☆ که انسان ضعیف البنیان بوجہ اپنی فطرتی کمزویوں کے گناہ سے محفوظ نہیں رہ سکتا اور ۴۳) قدم قدم پر ٹھو کر کھانا اس کی فطرت کا خاصہ ہے مگر وید نے انسان کی حالت پر رحم کر کے کوئی نجات کا طریق پیش نہیں کیا بلکہ وید کو صرف ایک ہی نسخہ یاد ہے جو سراسر غضب اور کینہ سے بھرا ہوا ہے اور وہ یہ کہ ایک ذرہ سے گنہ کے لئے بھی ایک لمبا اور نا پیدا کنار سلسلہ جونوں کا تیار کر رکھا ہے حالانکہ گنہگار اس وجہ سے بھی قابل رحم ہے کہ اس کی کمزور قوتیں جن سے گناہ صادر ہوتا ہے اس کی طرف سے نہیں بلکہ اُسی خدا نے پیدا کی ہیں۔ پس اس حالت میں عاجز بندے اس بات کے مستحق تھے کہ اس مجبوری کا بھی ان کو فائدہ دیا جا تا مگر بقول آریہ صاحبان پر میٹر نے ایسا نہیں کیا اور سزا دینے کے وقت یہ امر ملحوظ نہیں رکھا کہ آخر گناہ کے ارتکاب میں اس کا بھی تو کچھ دخل ہے اور وید نے مکتی دینے کے بارہ میں یہ شرط رکھی ہے کہ تب مکتی ملے گی کہ جب انسان گناہ سے بالکل پاک ہو جاوے مگر اس شرط کو جب قانون قدرت کے معیار کے ساتھ آزمایا جاوے تو ثابت ہوگا کہ اس شرط سے عہدہ برآ ہونا بالکل انسان کے لئے غیر ممکن ہے کیونکہ جب تک انسان خدا تعالیٰ کے تمام حقوق ادا نہ کر لے تب تک نہیں کہہ سکتا کہ اُس نے فرمانبرداری کے تمام دقائق کو ادا کر دیا ہے اور ظاہر ہے کہ قانون قدرت صاف یہ شہادت دے رہا ہے اور انسان کا صحیفہ فطرت اس شہادت پر اپنے دستخط کر رہا ہے اور بزبانِ حال بیان کر رہا ہے کہ انسان کسی مرتبہ ترقی اور کمال میں اس قصور سے مبرا نہیں ہوسکتا کہ وہ بمقابل خدا کی نعمتوں اور اس کے حقوق کے شکر نہیں کر سکا اور اس کے احکام کی کامل پیروی اور پوری بجا آوری میں بہت قاصر رہا۔ پس اگر انسان کی نجات صرف اسی صورت میں ہے کہ جیسا کہ چاہیے ہیں دنیا کے تفاوت مراتب اور دکھ سکھ کی حالت کو دیکھ کر اس کو اواگون یعنی تناسخ کی دلیل بتانا سراسر نا دانی ہے۔ کیونکہ جب دوسرا عالم آنے والا ہے تو دکھ پانے والے کو وہاں اس کے عوض میں سکھ مل جائے گا۔ ایسے بھی تو لوگ ہیں کہ جب آپ سے اپنے لئے آپ ہی دکھ پیدا کرتے ہیں تا دوسرے عالم میں سکھ اٹھاویں۔ منہ