چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 45 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 45

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۵ چشمه معرفت پنڈتوں نے یہی سمجھ لیا تھا کہ آگ اور جبل اور چاند اور سورج وغیرہ سب خدا ہی ہیں۔ اسی وجہ (۳۷) سے یہ تمام فرقے آریہ ورت میں پیدا ہو گئے ۔ اگر دید جل کی پوجا کی ہدایت نہ کرتا تو گنگا مائی کے پوجنے والے کیوں پیدا ہو جاتے۔ ہر دوار وغیرہ مقامات کے بڑے بڑے میلوں پر جا کر دیکھنا چاہیئے کہ کس صدق اور ارادت سے کئی لاکھ ہندو گنگا کی پوجا کرتے ہیں اور گنگا کے لاکھوں برہمنوں کا اُن کے چڑھاووں پر گزارہ ہے اور گنگا سے انواع اقسام کی مرادیں مانگی جاتی ہیں اور یہ سب لوگ وید کے پیرو کہلاتے ہیں۔ اگر وہ وید کے ماننے والے نہ ہوتے تو ہندو مذہب میں شمار نہ کئے جاتے۔ بلاشبہ اب بھی ایک بڑا حصہ ہندوؤں کا گنگا کو پر میشر کر کے مانتا ہے یہاں تک کہ یہ قدیم سے رسم ہے کہ پہلا بچہ اپنا گنگا مائی کی نذر کیا جاتا تھا جس کو جل پر وا کہتے ہیں اور اس طرح پر نہایت بے رحمی سے گنگا میں ڈال کر اُس کو ہلاک کر دیتے تھے مگر گورنمنٹ انگریزی نے اپنے خاص حکم سے اس بد رسم کو دور کر دیا اور لاکھوں جانوں کو ہلاکت سے بچایا۔ اب ہر ایک عظمند سوچ سکتا ہے کہ آریہ ورت کے ہندو جو در حقیقت ایک ہی قوم ہے کیوں عناصر اور اجرام پرستی میں گرفتار ہو گئے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ویدوں میں انہوں نے ایسا ہی لکھا پایا۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ درحقیقت یہی ویدوں کی تعلیم ہے بلکہ ہر ایک جگہ جو ہم اس رسالہ میں ایسا ذکر کریں گے تو اس سے مراد یہی ہے کہ غلطی سے یہی تعلیم ویدوں کی سمجھی گئی ہے اور پھر رفتہ رفتہ اس پر حاشیے چڑھائے گئے یہاں تک کہ مخلوق پرستی اصل مذہب آریہ ورت کا قرار دیا گیا اور یہ فتنہ جو آریوں میں مخلوق پرستی کا پیدا ہوادر اصل تمام الزام اس کا وید کی تعلیم پر ہے کیونکہ جب کہ رگوید اور دوسرے ویدوں میں صریح صریح اور کھلے طور پر آتش پرستی اور آب پرستی اور آفتاب پرستی اور ماہتاب پرستی و غیر مخلوق پرستیوں کا ذکر ہے تو پھر جن لوگوں نے یہی تعلیم وید کی سمجھ لی اُن کا کیا قصور ہے؟ اگر ویدوں میں صاف اور صریح لفظوں میں مخلوق پرستی کی ممانعت ہوتی تو ویدوں کے