چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 44 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 44

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۴ چشمه معرفت نہیں لکھ سکتے۔ ناظرین خود سوچ لیں اور سمجھ لیں کہ جس مذہب نے پر میشر کی خدائی پر وہ داغ لگایا ہے کہ گویا اس کو پر میشر ہونے سے ہی جواب دے دیا اور پھر انسانی پاکیزگی پر وہ داغ لگایا کہ آریہ ورت کی کروڑ ہا شریف عورتوں کو غیر مردوں سے ہم بستر کرا دیا اور ان کی عفت کو خاک میں ملا دیا۔ کیا ایسے مذہب سے کوئی پاک گیان بیا باک ہدایت سکھلانے کی توقع ہو سکتی ہے؟ مگر پھر بھی ہم یہ الزام وید پر لگانا نہیں چاہتے اصل بات یہ ہے کہ بعض جوگی یا سنیاسی جو بظاہر مجردانہ زندگی بسر کرتے تھے اور اندر سے سخت ناپاک تھے انہوں نے نامحرم عورتوں کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کے لئے نادان لوگوں کو یہ باتیں سکھائی تھیں اور ظاہر کیا تھا کہ گویا وید کی یہی ہدایتیں ہیں اور تا اُن کے لئے بدکاری کا دروازہ کھل جائے اور اس طرح پر وہ اپنے نفسانی جذبات کو پورا کر لیں اس بارے میں ڈاکٹر بر نیئر نے اپنی کتاب میں بہت کچھ لکھا ہے اور اُس نے بیان کیا ہے کہ میں نے جگن ناتھ کے مقام میں ہزاروں ہندو عورتیں دیکھی ہیں جن کی جو گیوں اور سنیاسیوں سے آشنائی تھی اور حماقت سے یہ بجھتی تھیں کہ وہ آشنائی اُن کے لئے مکتی کا موجب ہوگئی ہے۔ پھر مضمون خواں صاحب نے اپنے مضمون میں بیان کیا کہ پر ماتما کی کوئی شکل اور صورت نہیں حالانکہ وید نے اُسی پر ماتما کے نام اگنی ، وایو ، جل ، دھرتی ،سورج ، چاند وغیرہ رکھے ہیں اور وہی محدود صفات آگ اور ہوا وغیرہ کے اس میں قائم کئے ہیں پھر کیوں کر وہ کہہ سکتے ہیں کہ اس کی کوئی شکل اور صورت نہیں۔ کیا ہوا اپنے گرہ میں اور آگ اپنے کرہ میں اور ایسا ہی سورج اور چاند شکل اور صورت سے خالی ہیں ۔ جو شخص چند ورق رگ وید کے پڑھے گا اس کو معلوم ہو جائے گا کہ وید کی تعلیم کی رو سے یہ سب عناصر و اجرام فلکی خدا ہی ہیں اور پھر مخلوق بھی ہیں ۔ ہم نے اپنی کتاب براہین احمدیہ میں بڑا حصہ اُن شرتیوں کا لکھ دیا ہے جن میں یہ ذکر ہے اس لئے دوبارہ لکھنے کی ضرورت نہیں ۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ وید کا خواہ کچھ مطلب تھا مگر آریہ ورت کے کروڑہا ہندوؤں نے اور بڑے بڑے