چشمہٴ معرفت — Page 42
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۲ چشمه معرفت (۳) کی ہے وہی وید کا گیان ہے تو تناسخ کے عقیدہ سے معلوم ہوتا ہے کہ پر میشر پاکیزگی کی راہوں پر چلانا نہیں چاہتا کیونکہ تناسخی جنم کے ساتھ کوئی فہرست پر میشر نہیں بھیجتا جس سے معلوم ہو که دوبارہ آنے والی روح فلاں شخص کی ماں ہے اور فلاں شخص کی دادی اور فلاں شخص کی بہن اور اس طرح پر محض پر میشر کی لاپروائی کی وجہ سے لوگ دھو کہ کھا کر حرام کاری میں پڑ جاتے ہیں کیونکہ جس مرد کی کسی عورت سے شادی ہوئی اور شادی سے ایک مدت دراز پہلے اس کی ماں اور دادی اور ہمشیرہ مرچکی ہیں تو اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ جس عورت سے شادی کی گئی ہے شاید وہ اُس کی ماں ہی ہو یا دادی ہو یا ہمشیرہ ہو اور معلوم ہوتا ہے کہ ایسی حرام کاری پھیلنے کی پر میشر کو کچھ پروا نہیں بلکہ وہ عمداً چاہتا ہے کہ نا پا کی دنیا میں پھیلے ورنہ کیا اس بات کی قدرت نہ تھی کہ وہ ہر ایک نوزاد بچہ کے ساتھ ایک تحریر بھیجتا جس میں ظاہر کیا گیا ہوتا کہ اس بچہ کو فلاں فلاں شخص سے فلاں فلاں رشتہ ہے یا اُس بچہ کو یہ قدرت بخشتا کہ وہ آپ ہی بتلا دیتا کہ مثلاً میں فلاں فلاں کی دادی یا ماں ہوں مگر چونکہ پر میشر نے ایسا نہیں کیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آریوں کے پرمیشر کے نزدیک ہر ایک بد عملی جائز ہے۔ اس پر ایک اور بھی دلیل ہے کہ وید صرف اسی قسم کی حرام کاری کو جائز نہیں رکھتا بلکہ ایک اور قسم کی حرام کاری بھی وید کی رو سے جائز قرار دی گئی ہے اور وہ عقیدہ نیوگ ہے جو آریہ صاحبوں کے نزدیک وید کے نہایت قیمتی خیالات ہیں یا یوں کہو کہ وید کے تمام گیان کی جڑھ اور سر چشمہ وہی ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ وید کی تمام تعلیم کا نفس مضمون وہی ہے جس کے ذریعہ کتی حاصل ہوتی ہے اور جس پر پوشیدہ طور پر آریہ قوم میں عمل ہو رہا ہے۔ اور خلاصہ تعلیم نیوگ یہ ہے کہ جس آریہ کے گھر میں لڑکا پیدا نہ ہو یا صرف لڑکیاں پیدا ہوں تو اس کے لئے وید کا حکم یہ ہے کہ وہ اپنی بیوی کو کسی دوسرے سے ہم بستر کرا کر اولا د حاصل کرے بغیر