چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 42 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 42

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۲ چشمه معرفت کی ہے وہی وید کا گیان ہے تو تناسخ کے عقیدہ سے معلوم ہوتا ہے کہ پر میشر پاکیزگی کی راہوں پر چلانا نہیں چاہتا کیونکہ تناسخی جنم کے ساتھ کوئی فہرست پر میشر نہیں بھیجتا جس سے معلوم ہو کہ دوبارہ آنے والی روح فلاں شخص کی ماں ہے اور فلاں شخص کی دادی اور فلاں شخص کی بہن اور اس طرح پر محض پر میشر کی لاپروائی کی وجہ سے لوگ دھو کہ کھا کر حرام کاری میں پڑ جاتے ہیں کیونکہ جس مرد کی کسی عورت سے شادی ہوئی اور شادی سے ایک مدت دراز پہلے اس کی ماں اور دادی اور ہمشیرہ مرچکی ہیں تو اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ جس عورت سے شادی کی گئی ہے شاید وہ اُس کی ماں ہی ہو یا دادی ہو یا ہمشیرہ ہو اور معلوم ہوتا ہے کہ ایسی حرام کاری پھیلنے کی پر میشر کو کچھ پروا نہیں بلکہ وہ عمداً چاہتا ہے کہ ناپا کی دنیا میں پھیلے ورنہ کیا اس بات کی قدرت نہ تھی کہ وہ ہر ایک نوزاد بچہ کے ساتھ ایک تحریر بھیجتا جس میں ظاہر کیا گیا ہوتا کہ اس بچہ کو فلاں فلاں شخص سے فلاں فلا نص سے فلاں فلاں رشتہ ہے یا اُس بچہ کو یہ قدرت بخشا کہ وہ آپ ہی بتلا دیتا کہ مثلاً میں فلاں فلاں کی دادی یا ماں ہوں مگر چونکہ پر میشر نے ایسا نہیں کیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آریوں کے پرمیشر کے نزدیک ہر ایک بد عملی جائز ہے۔ اس پر ایک اور بھی دلیل ہے کہ وید صرف اسی قسم کی حرام کاری کو جائز نہیں رکھتا بلکہ ایک اور قسم کی حرام کاری بھی وید کی رو سے جائز قرار دی گئی ہے اور وہ عقیدہ نیوگ ہے جو آر یہ صاحبوں کے نزدیک وید کے نہایت قیمتی خیالات ہیں یا یوں کہو کہ وید کے تمام گیان کی جڑھ اور سر چشمہ وہی ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ وید کی تمام تعلیم کا نفس مضمون وہی ہے جس کے ذریعہ مکتی حاصل ہوتی ہے اور جس پر پوشیدہ طور پر آر یہ قوم میں عمل ہو رہا ہے۔ اور خلاصہ تعلیم نیوگ یہ ہے کہ جس آریہ کے گھر میں لڑکا پیدا نہ ہو یا صرف لڑکیاں پیدا ہوں تو اس کے لئے وید کا حکم م یہ ہے کہ وہ اپنی بیوی کو کسی دوسرے سے ہم بستر کرا کر اولاد حاصل کرے بغیر