چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 37 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 37

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۷ چشمه معرفت برخلاف ہے اور یہی بچی تعلیم ہے تم دونوں تعلیموں پر نظر ڈال کر خود سوچ لو اور پھر اُس تعلیم کو ﴿۲۹﴾ اختیار کرو جو بچے گیان اور کچی معرفت کی رو سے صحیح ٹھیرتی ہے۔ خدا تمہیں ہدایت دے۔ آمین پھر آریہ صاحبوں کی طرف سے جو مضمون سنایا گیا اُس میں ایک یہ بھی فقرہ تھا کہ پر ماتما یعنی پر میشر سب میں ہے جاہلوں سے دور عقلمندوں سے نزدیک ۔اس عبارت میں جو تناقض ہے اس کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ ایک فقرہ عبارت میں تو وید کی تعلیم یہ بیان کرتی ہے کہ پر ماتما سب میں ہے اور پھر دوسرے فقرہ میں یہ بیان ہے کہ وہ جاہلوں سے دور ہے۔ علاوہ اس کے چونکہ بموجب اصول آریہ سماج کے کوئی روح یا کوئی اجسام کا ذرہ پر میشر کا بنایا ہوا نہیں اور پر میشر کو قرب مخلوق کا وہ موقعہ بھی نہیں ملا جو بنانے والے کو اُس چیز کے لئے ضروری ہوتا ہے جس کو وہ بناتا ہے تو پھر کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ پر ما تما سب میں ہے جب کہ اُس کو قدیم اور انا دی چیزوں سے کچھ بھی تعلق نہیں اور نہ پر میشر ان کے اندر جا کر اُن کی قوتوں کو اصل تعداد سے بڑھا سکتا ہے اور نہ اصل تعداد سے گھٹا سکتا ہے تو اس مداخلت بے جا کے کیا معنی ہوئے کہ پر ماتما سب میں ہے ہر ایک شخص سوچ سکتا ہے کہ محض فضول طور پر پر میشر کا اندر ہونا سراسر ایک لغو حرکت ہے جس سے اگر ثابت ہوتا ہے تو بس یہی کہ پر میشر نے مخلوق کے اندر داخل ہوکر اپنا محدود ہونا ثابت کر دیا ہے کیونکہ جو چیز کسی محدود چیز کے اندر سما سکتی ہے وہ بھی بلا شبہ محدود ہے آریہ صاحبوں کی یہ عجیب عقل ہے کہ ایک طرف تو خدا تعالیٰ کے عرش پر ہونے کے معنوں کو نہ سمجھے کر محض جہالت سے یہ اعتراض پیش کرتے ہیں کہ مسلمانوں کا خدا محدود اور عرش کا محتاج ہے اور دوسری طرف خود اپنے پر میشر کی نسبت یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ تمام مخلوق چیزوں کے اندر ہے اور جب کہ وہ تمام چیزوں کے اندر ہے تو کیا وہ اُن بتوں اور مورتیوں کے اندر نہیں ہے جن کی بت پرست لوگ پرستش کرتے ہیں بلکہ آریوں کو تو چاہیے کہ بت پرستوں سے زیادہ مخلوق پرستی کریں کیونکہ بت پرست تو پر میشر کا مظہر صرف اُن بتوں کو خیال کرتے ہیں کہ جوان کی مذہبی رسم کے