چشمہٴ معرفت — Page 36
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۶ چشمه معرفت ۲۸ اپیل کے وقت ضرور مع خرچہ اُس پر ڈگری ہو سکتی تھی ۔ سُبْحَنَ اللهِ عَمَّا يَصِفُونَ سواے ہم وطن پیارو ! یہ وید وڈیا کا ایک نمونہ ہے جو ہم نے اس جگہ پیش کیا ہے اور آگے چل کر انشاء اللہ اور بھی کئی نمونے بیان کریں گے ۔ تم خود سوچ لو کہ کیا یہ سچ نہیں ہے که اول خدا کو مالک قرار دینا اور اقرار کرنا کہ وہ مالکا نہ تصرفات اپنی مخلوق میں کر سکتا ہے اور پھر اُسی منہ سے یہ بھی کہنا کہ وہ مالک نہیں ہے بلکہ وہ صرف ایک بادشاہ کے درجہ پر ہے اور اس کی مخلوقات محض رعایا کی مانند ہے اور جیسا کہ رعایا اپنے حقوق اپنے بادشاہ سے طلب کر سکتی ہے ایسا ہی اس کے بندے حق رکھتے ہیں کہ انصاف کرنے کے لئے اس کو مجبور کریں کہ ہماری نسبت ایسا تو نے کیوں کیا اور ایسا کیوں نہ کیا اور وہ مجبور ہو کر یہ جواب دیتا ہے کہ یہ کمی بیشی میری طرف سے نہیں بلکہ تمہارے اعمال کی وجہ سے ہے۔ یہ امر واقعی ہے کہ ہر ایک شخص جو اپنی نسبت خدا کو منصف ٹھہراتا ہے وہ اپنے ذہن میں اپنا حق خدا پر ٹھہرالیتا ہے جو واجب الادا ہے اور دل میں خیال کر لیتا ہے کہ میں نے خدا کی اس قدر جو اطاعت کی۔ یہ میرا ایک حق خدمت ہے جس کا عوض ادا کرنا اس کا فرض ہے۔ اور اگر وہ حق کو ادا نہ کرے تو نا انصافی کے جرم کا مرتکب ہوگا لیکن قرآن شریف نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ انسان مع اپنی روح اور تمام قوتوں اور ذرہ ذرہ وجود کے خدا کی مخلوق ہے جس کو اُس نے پیدا کیا۔ لہذا قرآن شریف کی تعلیم کی رو سے ہم خدا تعالیٰ کے خالص ملک ہیں اور اُس پر ہمارا کوئی بھی حق نہیں ہے جس کا ہم اُس سے مطالبہ کریں یا جس کے ادا نہ کرنے کی وجہ سے وہ ملزم ٹھہر سکے اس لئے ہم اپنے مقابل پر خدا کا نام منصف نہیں رکھ سکتے بلکہ ہم بالکل تهیدست ہونے کی وجہ سے اُس کا نام رحیم رکھتے ہیں۔ غرض منصف کہنے کے اندر یہ شرارت مخفی ہے کہ گویا ہم اس کے مقابل پر کوئی حقوق رکھتے ہیں اور اُس حق کے ادانہ کرنے کی صورت میں اُس کو حق تلفی کی طرف منسوب کر سکتے ہیں۔ سو قر آن کی تعلیم اس جگہ آریوں کی تعلیم کے سراسر ا المومنون : ٩٢