چشمہٴ معرفت — Page 32
روحانی خزائن جلد ۲۳ (۲۳) شرقی وید میں سے ہمیں دکھلا دے۔ ۳۲ نادان آریہ قرآن شریف پر ہمیشہ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اللہ تعالی کا نام خَيْرُ الْمُکرِین لے رکھا ہے یعنی ایسا مکر کرنے والا جس میں کوئی شہر نہیں مگر اس جگہ تو وید کا پر میشر شر الماکرین ٹھہرتا ہے کیونکہ جھوٹے بہانوں سے مکتی یافتوں کو بار بار اواگون میں ڈالتا ہے اور پھر جونوں کی تقسیم میں انصاف کا پابند نہیں رہتا اور دائگی نجات نہ دینے کے بارے میں ایک جھوٹا عذر پیش کرتا ہے اور اپنی ناحق کی شیخی دکھلانے کے لئے اصل واقعہ کو چھپاتا ہے اور سچائی کی پابندی سے یہ نہیں کہتا کہ دراصل میں دائی مکتی دینے پر قادر ہی نہیں اور یہ جھوٹا بہانہ پیش کرتا ہے کہ محدود اعمال کا پاداش صرف محدود چاہیے کیونکہ مکر بموجب تشریح قرآن شریف کے دو قسم کے ہوتے ہیں۔ نیک مکر اور بد مکر لیکن وید کا پر میشر اپنی مذکورہ بالا کا رروائی کی رو سے بد مکر کو استعمال کرتا ہے کیونکہ اپنی کمزوری چھپا کر لوگوں کو دھوکہ دیتا ہے کہ محدود عمل کا شمرہ کیونکر غیر محدود دیا جائے حالانکہ اصل واقعہ یہ ہے کہ وہ نجات دینے پر قدرت ہی نہیں رکھتا اور پھر یہ بھی سراسر دھو کہ رہی ہے کہ اعمال محدود ہیں کیونکہ راستباز لوگ کسی محدود زمانه تک خدا کو یاد کرنا نہیں چاہتے بلکہ ہمیشہ کی اطاعت کے لئے دل میں عہد رکھتے ہیں اور یہ تو اُن کے اختیار میں نہیں کہ موت آجائے ۔ موت کا بھیجنا تو خدا کا کام ہے اُن کا اس میں کیا قصور؟ پھر ہم اصل بحث کی طرف رجوع کر کے لکھتے ہیں کہ آریوں کے اصول کی رو سے اُن کے پر میشر کا نام مالک ٹھہر نہیں سکتا کیونکہ جو کچھ اس کے پاس ہے وہ قدرت نہیں رکھتا کہ بغیر کسی کے حق واجب کے اُس کو بطور ا کرام انعام کچھ دے سکے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ جو شخص کسی مال کا مالک ہوتا ہے وہ اختیار رکھتا ہے کہ جس قدر اپنے پاس سے چاہے کسی کو دے دے مگر پر میشر کی نسبت آریوں کا یہ اصول ہے کہ نہ وہ گناہ بخش سکتا ہے ال عمران : ۵۵