چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 31 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 31

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۱ چشمه معرفت کورڈی سے رڈی جون میں ڈالنا اور بے جا پکش پات اور طرفداری کو استعمال میں لانا کیا ایسا ﴿۲۳﴾ مکروہ فریب اور مکر اُس بے عیب ذات کی طرف منسوب ہوسکتا ہے جو بے انتہا فیضوں کا سرچشمہ ہے۔ جس حالت میں در حقیقت پر میشر دائمی نجات دینے پر قادر ہی نہیں تو اس فضول عذر پیش کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی کہ محدود اعمال کی غیر محدود جز انہیں ہوسکتی ۔ واقعی بات کو چھپانا اور محض اپنی پردہ پوشی کے طور پر اور اور عذرات پیش کرنا کیا وید میں یہی صفات پر میشر کے لکھے ہیں۔ واقعی بات تو یہ تھی کہ بقول آریہ وید کے اصول کی رو سے پرمیشر کسی روح کو دائمی نجات دے ہی نہیں سکتا کیونکہ جب کہ تمام ارواح غیر مخلوق ہیں اور بموجب اصول وید کے یہ بھی ضروری کہ سلسلہ دنیا کا ہمیشہ جاری رہے تو اس صورت میں اگر پر میشر روحوں کو دائمی نجات دیتا تو اس کا یہ لازمی نتیجہ ہوتا کہ ہر ایک روح جو دائمی نجات پالیتی وہ ہمیشہ کے لئے پر میشر کے ہاتھ سے نکل جاتی اور رفتہ رفتہ آخر وہ زمانہ آجاتا کہ ایک روح بھی پر میشر کے ہاتھ میں نہ رہتی اور پھر مجبوراً پر میشر خالی ہاتھ بیٹھ جاتا اور جیسا کہ وید کی رو سے مانا گیا ہے آئندہ دنیا کا سلسلہ چل نہ سکتا کیونکہ پر میشر کسی روح کے پیدا کرنے پر تو قادر نہ تھا تا نئی روحوں سے دنیا کا سلسلہ چلاتا اور جب کہ پہلی روحیں دائمی نجات پا کر اواگون کے سلسلہ سے ہمیشہ کے لئے مخلصی پا جاتیں تو اس صورت میں پرمیشر اس شخص کی مانند ہوتا جس کا دیوالہ نکل جاتا ہے۔ ناچار اس مجبوری سے اس کو اواگون کا سلسلہ ختم کرنا پڑتا اور ایسا کرنا وید کی رو سے اس کے مقرر کردہ اصول کے مخالف تھا پس در حقیقت محدود مکتی کا یہ راز تھا مگر پر میشر نے دنیا داروں کے رنگ میں جو اپنا پول ظاہر کرنا نہیں چاہتے اصل حقیقت کو چھپایا۔ بھلا کوئی ایسی شرقی پیش تو کرو جس میں پر میشر نے یہ کہا ہو کہ میں دائمی نجات دینے پر قادر تو تھا لیکن میں نے نہ چاہا کہ محدود اعمال کا غیر محدود بدلہ دوں ۔ ہم ایسے کسی آریہ کو ہزار روپیہ نقد دینے کو تیار ہیں کہ اپنے اصول کو ملحوظ رکھ کر پھر ایسی