چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 26 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 26

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۶ چشمه معرفت (۱۸) میں اللہ تعالیٰ کو یاد کریں اور اُس سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگیں اور اپنے گناہ پر اصرار نہ کریں اُن کا خدا آمرزگار ہوگا اور گنہ بخش دے گا۔ پس ان تمام آیتوں سے ظاہر ہے کہ جیسے خدا انسان کا اس طور سے مالک ہے کہ اگر چاہے تو اُس کے گناہ پر اُس کو سزا دے۔ ایسا ہی اس طور سے بھی اُس کا مالک ہے کہ اگر چاہے تو اُس کا گناہ بخش دے کیونکہ ملکیت تبھی متحقق ہوتی ہے کہ جب مالک دونوں پہلوؤں پر قادر ہو بلکہ ان تمام آیات سے بڑھ کر ایک اور آیت ہے اور وہ یہ ہے قُلْ لِعِبَادِيَ الَّذِيْنَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا یعنی اے وہ لوگو جنہوں نے اسراف کیا یعنی گناہ کیا تم خدا کی رحمت سے نوامید مت ہو وہ تمہارے سارے گناہ بخش دے گا یعنی وہ اِس بات سے مجبور اور عاجز نہیں کہ گنہ گار کو بغیر سزا دینے کے چھوڑ دے کیونکہ وہ اس کا مالک ہے اور مالک کو ہر ایک اختیار ہے۔ یہ تو وہ قادر اور کریم خدا ہے جس کو قرآن شریف نے ہم پر ظاہر کیا اور اس کے کرم اور عفو کی صفتیں ہمیں سنائیں لیکن آریوں کا پر میشر اپنی حیثیت کی رو سے ایک مجسٹریٹ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا جو جرم اور عدم جرم کی بنا پر سزا دیتا یا بری کرتا ہے مالکانہ اختیار اُس کو کچھ بھی حاصل نہیں یہاں تک کہ نعوذ باللہ وہ انسان سے بھی گیا گزرا ہے مثلاً ہم اپنے خطا کا رنو کر کا گنہ بخش سکتے ہیں مگر آریوں کا پر میشر اپنے کسی گنہ گار کا گنہ بخش نہیں سکتا ۔ ایسا ہی ہم اپنے نوکر کی خدمات کے علاوہ جس قدر چاہیں بطور جود و احسان اُس کو دے سکتے ہیں مگر آریوں کا پر میشر اپنے پرستار کو اُس کے حق واجب سے زیادہ کچھ بھی نہیں دے سکتا۔ اسی وجہ سے وہ دائمی مکتی نہیں دے سکتا۔ پنڈت دیانند کی ستیارتھ پرکاش اُردو کے صفحہ ۵۰۱ میں لکھا ہے کہ پر میشر کسی کا گناہ بخش نہیں سکتا ایسا کرے تو بے انصاف ٹھہرتا ہے پس اُس نے مان لیا ہے کہ پر میشر محض ایک حج کی طرح ہے مالکانہ حیثیت اُس کو حاصل نہیں ۔ ایسا ہی پنڈت الزمر : ۵۴