چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 25 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 25

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۵ چشمه معرفت جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے عَذَابِي أَصِيبُ بِهِ مَنْ أَشَاءُ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ (۱۷) شَيْ لے یعنی عذاب تو میرا خاص صورتوں میں ہے جس کو چاہتا ہوں دیتا ہوں مگر میری رحمت ہر ایک چیز تک پہنچ رہی ہے اور پھر سورۃ آل عمران میں خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کو یہ دعا سکھلائی ہے اور وہ یہ ہے رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَ إِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا یعنی اے ہمارے خدا ہمارے گناہ بخش اور جو اپنے کاموں میں ہم حد سے گذر جاتے ہیں وہ بھی معاف فرما۔ پس ظاہر ہے کہ اگر خدا گناہ بخشنے والا نہ ہوتا تو ایسی دعا ہرگز نہ سکھلاتا اور پھر سورۃ البقرہ کے آخر میں خدا تعالیٰ نے مندرجہ ذیل دعا سکھلائی ہے اور وہ یہ ہے رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أوْ أَخْطَأنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا الخ کے یعنی اے ہمارے خدا نیک باتوں کے نہ کرنے کی وجہ سے ہمیں مت پکڑ جن کو ہم بھول گئے اور بوجہ نسیان ادانہ کر سکے اور نہ اُن بد کاموں پر ہم سے مواخذہ کر جن کا ارتکاب ہم نے عمد ا نہیں کیا بلکہ سمجھے کی غلطی واقع ہو گئی اور ہم سے وہ بوجھ مت اُٹھوا جس کو ہم اُٹھا نہیں سکتے اور ہمیں معاف کر اور ہمارے گناہ بخش اور ہم پر رحم فرما۔ پس اس جگہ بھی خدا تعالیٰ نے یہی دعا سکھلائی ہے کہ ہم اُس سے گناہوں کی معافی مانگیں۔ پھر سورہ آل عمران میں فرمایا ہے وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً | أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللهَ فَاسْتَغْفَرُ والذُنُوبِهِمْ وَمَن يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَى مَا فَعَلُوْا وَهُمْ يَعْلَمُوْنَ أُولَيْكَ جَزَاؤُهُمْ مَّغْفِرَةٌ مِنْ رَّبِّهِمُ الحَ اور وہ لوگ کہ جب کوئی بے حیائی کا کام کریں یا اپنی جانوں پر ظلم کریں اور پھر اپنے ایسے حال الاعراف : ۱۵۷ ال عمران : ۱۴۸ ۳ البقرة : ۲۸۷ ال عمران: ۱۳۶، ۱۳۷