چشمہٴ معرفت — Page 433
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۳۳ چشمه معرفت پڑا اور میرا کر تہ اس پانی سے تر ہو گیا حالانکہ ہم چھت کے نیچے بیٹھے تھے اور محال تھا کہ وہ پانی کسی جگہ سے گرتا اور وہ کر نہ میاں عبد اللہ سنوری نے تبرک کے طور پر مجھے سے لے لیا اور اب تک موجود ہے ۔ اب کوئی اس قصہ کو باور کرے یا نہ کرے مگر اس (۲۲) پر ہم ایمان لاتے ہیں کہ وہ بھی خدا نے ایک مادہ نیست سے ہست کیا تھا۔ یہ اعتقاد کہ نیست سے خدا ہست نہیں کر سکتا محض اس شخص کے لئے زیبا ہے کہ جس نے خدا کے تمام اسرار پر اطلاع پالی ہے ورنہ محض دخل بے جا ہے ۔ جو کچھ خدا سے پیدا ہوتا ہے اگر چہ نیست سے ہست ہوتا ہے مگر وہ اس قسم کا نیست نہیں ہوتا جو انسان سمجھ سکتا ہے بلکہ یہ بھید خدا کو معلوم ہے ۔ اگر یہ عقیدہ چھوڑ دیا جائے کہ سب چیزیں خدا تعالیٰ سے نکلی ہیں اور اُس کی مخلوق ہیں تو پھر خدا اور چیزوں کے برابر ہو جاتا ہے اور تمام چیزوں سے خدا کا تصرف اٹھ جاتا ہے اور یہ ماننا پڑتا ہے کہ ان خود بخود چیزوں کو خدا کے سہارے کی کچھ بھی ضرورت نہیں اور اگر اس کا وجود نہ ہو تب بھی اُن کا کچھ حرج نہیں اور اس صورت میں روح کے تزکیہ کے متعلق دعا بھی محض بے کار اور عبث ہو جاتی ہے کیونکہ جن چیزوں کو اُس نے پیدا ہی نہیں کیا ان کی کمی بیشی اُس کے اختیار میں کیونکر ہو سکتی ہے اور نیز اس صورت میں اس کے وجود پر کوئی دلیل باقی نہیں رہتی کیونکہ جب کہ تمام روح خود بخود ہیں اور اُن کی تمام طاقتیں بھی خود بخود اور ذرات یعنی پر مانو بھی خود بخود ہیں اور اُن کی طاقتیں بھی خود بخود تو پھر پر میشر کے وجود پر قطعی طور پر کون سی دلیل باقی رہی۔ کوئی ہمیں سمجھا وے کیونکہ صرف جوڑنا اور جدا کرنا اُن روحوں اور ذرات کا جو خود بخود ہیں پر میشر کی ہستی پر کوئی دلیل نہیں ہو سکتی ۔ کیا جائز اور ممکن نہیں کہ وہ روحیں اور وہ ذرات جو خود بخود ہیں اُن کا اتصال اور انفصال بھی خود بخود ہو اور خود بخود مل جائیں اور خود بخو دعلیحد ہ ہو جائیں۔