چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 23 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 23

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۳ چشمه معرفت یعنی بندہ ہے کوئی حق پیش نہیں کر سکتا اور انصاف جوئی کی بناء پر کوئی اس سے مطالبہ ﴿۱۵﴾ نہیں کر سکتا ۔ یا در ہے کہ مالک ایک ایسا لفظ ہے جس کے مقابل پر تمام حقوق مسلوب ہو جاتے ہیں اور کامل طور پر اطلاق اس لفظ کا صرف خدا پر ہی آتا ہے کیونکہ کامل مالک وہی ہے ۔ جو شخص کسی کو اپنی جان وغیرہ کا مالک ٹھہراتا ہے تو وہ اقرار کرتا ہے کہ اپنی جان اور مال وغیرہ پر میرا کوئی حق نہیں اور میرا کچھ بھی نہیں سب مالک کا ہے اس صورت میں اپنے مالک کو یہ کہنا اس کے لئے ناجائز ہو جاتا ہے کہ فلاں مالی یا جانی معاملہ میں میرے ساتھ انصاف کر کیونکہ انصاف حق کو چاہتا ہے اور وہ اپنے حقوق سے دست بردار ہو چکا ہے۔ اسی طرح انسان نے جو اپنے مالک حقیقی کے مقابل پر اپنا نام بندہ رکھایا اور اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کا اقرار کیا یعنی ہمارا مال، جان، بدن، اولا دسب خدا کی ملک ہے تو اس اقرار کے بعد اس کا کوئی حق نہ رہا جس کا وہ خدا سے مطالبہ کرے۔ اسی وجہ سے وہ لوگ جو در حقیقت عارف ہیں باوجود صد ہا مجاہدات اور عبادات اور خیرات کے اپنے تئیں خدا تعالیٰ کے رحم پر چھوڑتے ہیں اور اپنے اعمال کو کچھ بھی چیز نہیں سمجھتے اور کوئی دعویٰ نہیں کرتے کہ ہمارا کوئی حق ہے یا ہم کوئی حق بجالائے ہیں کیونکہ در حقیقت نیک وہی ہے جس کی توفیق سے کوئی انسان نیکی کر سکتا ہے اور وہ صرف خدا ہے۔ پس انسان کسی اپنی ذاتی لیاقت اور ہنر کی وجہ سے خدا تعالیٰ سے انصاف کا مطالبہ ہرگز نہیں کر سکتا۔ قرآن شریف کی رو سے خدا کے کام سب مالکانہ ہیں جس طرح کبھی وہ گناہ کی سزا دیتا ہے ایسا ہی وہ کبھی گناہ کو بخش بھی دیتا ہے یعنی دونوں پہلوؤں پر اس کی قدرت نافذ ہے جیسا کہ مقتضائے مالکیت ہونا چاہیے۔ اور اگر وہ ہمیشہ گناہ کی سزا دے تو پھر انسان کا کیا ٹھکانہ ہے بلکہ اکثر وہ گناہ بخش دیتا ہے اور تنبیہ کی غرض سے کسی گناہ کی سزا بھی دیتا ہے تا غافل انسان متنبہ ہو کر اس کی طرف متوجہ ہو جیسا کہ قرآن شریف میں یہ آیت ہے وَمَا أَصَابَكُمْ البقرة: ۱۵۷