چشمہٴ معرفت — Page 427
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۲۷ چشمه معرفت قرآن شریف ہمیں حکم کرتا ہے ہم اس بات کے گواہ ہیں کہ وہ نہایت زبر دست اور قادر مطلق اور کامل طاقتوں والا خدا ہے جو شخص اس خدا کی طرف سچے دل سے رجوع کرتا ہے اور وفاداری اور صدق قدم سے اُس کی طرف آتا ہے اُس کا انجام یہ ہوتا ہے کہ جیسا کہ خدا بے مثل ہے وہ بھی بے مثل ہو جاتا ہے اور آسمانی برکتوں کے دروازے اُس پر کھولے جاتے ہیں اور جیسا کہ خدا نے آسمان اور زمین میں کئی قسم کی قدرتیں دکھلائی ہیں ایسا ہی اُس کے ہاتھ پر بھی کئی قسم کی قدرتیں ظاہر ہوتی ہیں اور خوارق ظہور میں آتے ہیں جو دوسرے انسان اُن پر قادر نہیں ہو سکتے اور آسمانی برکتوں کے دروازے اُس پر کھولے جاتے ہیں اور مقابلہ کے وقت کوئی اُس پر غالب نہیں آسکتا کیونکہ خدا اس کی زبان ہو جاتا ہے جس سے وہ بولتا ہے اور خدا اُس کے ہاتھ ہو جاتا ہے جن سے طرح طرح کے تصرفات زمین پر ظاہر کر سکتا ہے ۔ نہیں کہہ سکتے کہ وہ خدا ہے یا خدا کا بیٹا ہے مگر جوشخص قرآن شریف کا پیرو ہو کر محبت اور صدق کو انتہا تک پہنچا دیتا ہے وہ ظلی طور پر خدا تعالیٰ کی صفات کا مظہر ہو جاتا ہے ۔ یہ سب نتیجہ اس زبر دست طاقت اور خاصیت کا ہوتا ہے جو خدا کے کلام قرآن شریف میں ہم مشاہدہ کرتے ہیں وہ زبر دست طاقت اور خاصیت کسی اور کتاب میں نہیں جو کسی قوم کے نزدیک کتاب الہامی سمجھی جاتی ہے شاید اس کا یہ سبب ہو کہ وہ کتابیں بوجہ دور دراز زمانوں کے محرف و مبدل ہو چکی ہیں یا شاید یہ سبب ہو کہ اگر چہ لفظ ان کے محرف و مبدل نہیں ہوئے مگر معنے بگاڑ دیئے گئے ہیں یا شاید یہ سبب ہو کہ خدا نے اس آخری زمانہ میں تفرقہ دور کرنے کے لئے اور دنیا کے تمام لوگوں کو (۶۰) صرف ایک کتاب پر جمع کرنے کے لئے ان تمام پہلی کتابوں کی برکتیں مسلوب کر لی ہیں ا ابھی مجھے تھوڑی سی غنودگی کے ساتھ یہ الہام ہوا ۔ انت منی بمنزلة النجم الثاقب یعنی تو مجھ سے بمنزلہ اس ستارہ کے ہے جو قوت اور روشنی کے ساتھ شیطان پر حملہ کرتا ہے۔ اور یہ ساڑھے پانچ بجے صبح کا وقت ہے ۔ روز دوشنبه ۲ دسمبر ۱۹۰۷ ء منه